ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
1.3 C
Srinagar

’دراندازی صفر ہونی چاہیے‘

امت شاہ کا دورہ :جوانوں کی بہادری پر ملک کو ناز، پاکستانی دہشت گردوں کا صفایا یقینی بنایا جائے: وزیر داخلہ


ایشین میل نیوزڈیسک

جموں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز کٹھوعہ دورے کے دوران سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اپ گریڈیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دشمن کی حکمتِ عملی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتی جا رہی ہے، ویسے ہی سرحدوں کی نگرانی اور سیکیورٹی انتظامات کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ بارڈر کی پہلی دفاعی لائن پر کھڑے جوانوں کی مستقل چوکس نگرانی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن مستقبل کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے جدید آلات، سرویلنس سسٹمز اور ٹیکنالوجی ہی حتمی حل ہیں۔امت شاہ کے اس دورے کو بارڈر مینجمنٹ کے حالیہ حالات کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں میں جموں خطے کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جہاں جیشِ محمد سے وابستہ تین پاکستانی دہشت گرد مختلف جھڑپوں میں مارے گئے۔ بڑھتی سرگرمیوں نے سرحدی علاقوں میں نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو ابھر کر سامنے لایا ہے۔وزیر داخلہ کے ہمراہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، ہوم سیکریٹری گووند موہن، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو تپن کمار ڈیکا اور ڈی جی بی ایس ایف پروین کمار بھی موجود تھے۔بوبیہ بی او پی پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں ہمیشہ اوّل صف میں کھڑی رہی ہے۔ انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح گزشتہ برس جموں فرنٹیئر نے 118 پاکستانی چوکیاں اور تین دہشت گرد لانچ پیڈز کو تباہ کیا، جو بی ایس ایف کی صلاحیت، تیاری اور جرات کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی بی ایس ایف کی تاریخ کے سنہری باب میں شامل ہو چکی ہے۔امت شاہ نے بی ایس ایف اہلکاروں کی بہادری، خدمت اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس فورس کے جوان کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ملک کے شہری امن سے سوتے ہیں، وہاں بی ایس ایف کے جوان برفیلے پہاڑوں، ریگستانوں اور دشوار گزار بارڈر پٹیوں پر رات بھر محاذ سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ مرکز بارڈر سیکورٹی فورس کی جدید کاری پر بھرپور سرمایہ لگانے کیلئے تیار ہے اور فورس کے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کیلئے فلاحی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج بارڈر پر جن خطرات کا سامنا ہے وہ ماضی سے بالکل مختلف ہیں۔ اب ڈرون حملے، سرنگوں کا استعمال، ہائبرڈ دہشت گردی اور بین الاقوامی سرحد کے پار سے کی جانے والی منشیات و اسلحہ اسمگلنگ سرحدی سلامتی کے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خطرات سے مو¿ثر طور پر نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کو سیکیورٹی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔اس موقع پر امت شاہ نے بوبیہ بارڈر آو¿ٹ پوسٹ پر شہدائ میموریل پر پھول چڑھائے اور سب انسپکٹر محمد امتیاز اور کانسٹیبل دیپک چنگتم سمیت ا±ن تمام جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مادرِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائ کا حوصلہ، عزم اور قربانی بھارت کے ہر شہری کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ چاہے منی پور اور شمال مشرقی ریاستوں کے پہاڑی علاقے ہوں یا چھتیس گڑھ اور اڈیشہ کے نکسلی علاقے—بی ایس ایفنے ہر جگہ اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی، انسانی ہمدردی اور فرض شناسی کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی یہی جدوجہد اسے ملک کی سب سے قابلِ احترام فورسز کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔امت شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی سیکیورٹی جائزہ میٹنگ:مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے دو روزہ دورے جموں و کشمیر کے دوران جمعہ کو لوک بھون جموں میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، اعلیٰ پولیس افسران، سیکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان اور انتظامی محکموں کے سینئر حکام نے حصہ لیا۔وزیر داخلہ جمعرات کی شام جموں پہنچے تھے، جس کے بعد انہوں نے جموں و کشمیر کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، سرحدی مینجمنٹ، اور جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ میٹنگ کے دوران حکام نے انہیں حالیہ سیکیورٹی چیلنجز، پاکستان سے دراندازی کی کوششوں، ڈرون سرگرمیوں، ہائبرڈ دہشت گردی اور سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کے نئے طریقوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق، امت شاہ نے فورسز کی مشترکہ کارروائیوں، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور آپریشنل تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کے مکمل صفایا کے لیے تمام اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم رکھنا ہے۔میٹنگ کے دوران سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے، حساس مقامات پر نگرانی بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کرنے اور انسدادِ دہشت گردی نیٹ ورک کو مزید فعال بنانے سے متعلق اقدامات پر بھی غور ہوا۔ حکام نے وزیر داخلہ کو حالیہ ہفتوں میں کامیاب آپریشنز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے انہدام کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔امت شاہ نے فورسز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مرکز فورسز کی ضروریات، جدید آلات اور انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔فوجی سربراہ کا وائٹ نائٹ کور کا دورہ، مجموعی سیکورٹی صورتحال کا لیا جائزہ´: فوج کے سربراہ جنرل اوپیندرا دیویدی نے جمعہ کے روز جموں خطے میں موجود وائٹ نائٹ کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مجموعی سیکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور سرحدی علاقوں میں تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کے اس دورے کو حالیہ سیکورٹی چیلنجز اور سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں کے پس منظر میں خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔فوجی حکام کے مطابق جنرل دیویدی کو وائٹ نائٹ کور کی قیادت نے تفصیلی بریفنگ دی، جس میں موجودہ انسدادِ دہشت گردی گرڈ، مشترکہ سیکیورٹی کارروائیوں، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تازہ پیش رفت شامل تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی ہے، جس کی بدولت کئی کامیاب آپریشنز انجام دیے گئے ہیں۔فوجی سربراہ نے مشترکہ آپریشنز میں فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت، جذبہ اور مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بدلتے چیلنجز کے پیش نظر جدید ٹیکنالوجی، تیاریوں میں بہتری اور تیز رفتار ردعمل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔جنرل دیویدی نے اہلکاروں سے خطاب کے دوران ان کے حوصلے اور فرض شناسی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ اور تعاون کو اولین ترجیح دیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو مضبوط بنایا جاسکے۔فوجی سربراہ نے لائن آف کنٹرول کے قریب تعینات جوانوں کی تیاریوں اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم کا خود جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی شرپسندانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔انہوں نے وائٹ نائٹ کور کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اعادہ کیا کہ کور آئندہ بھی خطے میں امن اور سیکیورٹی برقرار رکھنے میں اپنا کلیدی کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img