سری نگر: وادی کشمیر میں ایک انتہائی شدید اور کم وقت میں آنے والے برفانی طوفان نے موسم سرما کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا، جہاں محض 15 گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں پانچ فٹ تک برف جمع ہوگئی۔ اس غیر معمولی برفباری نے رواں موسم سرما کے سب سے طاقتور اور اچانک آنے والے موسمی واقعات میں سے ایک کی شکل اختیار کر لی۔
پیر پنجال کے نزدیک واقع علاقوں کو سب سے زیادہ متاثر قرار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شوپیان کے میدانی علاقوں میں ڈیڑھ سے تین فٹ تک برف ریکارڈ ہوئی، جبکہ بالائی علاقوں میں برف کی مقدار پانچ فٹ تک پہنچ گئی، جو اتنے کم وقت میں غیر معمولی اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
صرف شوپیان ہی نہیں، بلکہ برفانی طوفان کے اثرات نے بڈگام، پلوامہ، کولگام، کپوارہ اور بارہمولہ کے متعدد علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ ان علاقوں کی بالائی چوٹیوں اور دشوار گزار مقامات پر بھی دو سے پانچ فٹ تک برف جمع ہوئی، وہ بھی اسی 15 گھنٹے کے محدود دورانیے میں۔کشمیر ویدر کے مطابق یہ برفانی طوفان اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ نہ صرف اس کی شدت زیادہ تھی بلکہ اس کی رفتار بھی انتہائی تیز رہی، جس نے مختصر وقت میں ریکارڈ توڑ برفباری کو جنم دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بھاری مقدار میں برف عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں میں پڑتی ہے، تاہم اس بار یہ سب کچھ محض چند گھنٹوں میں ہوا، جو خطے میں موسم کی غیر متوقع تبدیلیوں کی مزید ایک مثال ہے۔
انتظامی ذرائع کے مطابق بھاری برفباری کے باعث کئی بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوا ہے، بجلی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے اور متعدد مقامات پر درختوں کے گرنے، گاڑیوں کے پھنسنے اور ٹرانسپورٹ معطل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
برف ہٹانے والی مشینری کو کئی اہم سڑکوں پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔لوگوں نے سوشل میڈیا پر برفباری کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اسے ’اس سیزن کا سب سے طاقتور طوفان‘ قرار دیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم بتدریج بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





