جموں و کشمیر کے ایک معتبر ادیب عبد الغنی بیگ اطہر

جموں و کشمیر کے ایک معتبر ادیب عبد الغنی بیگ اطہر

تحریر: ڈاکٹر محمد عبد اللہ شیدا

جناب عبد الغنی بیگ اطہر کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے۔ انہیں جموں وکشمیر کے شعراءاور ادباءکے علاوہ ریاست سے باہر کے کافی سارے ادباءاچھی طرح جانتے ہیں ۔اطہرصاحب شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ تعلیم دان ، انشاءپرداز ، افسانہ نگار، محقق اور مورخ بھی ہیں۔ اردو ،انگریزی اور کشمیری زبان میں اب تک انکی دو درجن کتابیں چھپ کر ادبی حلقوں میں بڑی مقبول ہوئی ہیں۔


اطہر صاحب کپوارہ قصبے کے ریگی پورہ گاوں میں 15اکتوبر 1948 کو پیدا ہوئے۔ 1965ءمیں امتیازی پوزیش لیکر کپوارہ ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا اور اسی سال بحیثیت استاد تعینات ہوئے۔ پرائیویٹ امیدوار کی حثیت سے گریجویشن کے بعد 1973 ءمیں بی ایڈ پاس کیا۔ 1976میں ماسٹر گریڈ میں ترقی ملی۔ پھر آنرس اردو ، آنرس کشمیری کے امتحان پاس کرنے کے بعد ایم اے پولیٹکل سائنس اور ایم اے کشمیری بھی پاس کیا۔ 1986 ءمیں کشمیری زبان کے ہی لیکچرر اور پھر سینیرلیکچرر ہوئے اور2006 ءمیں اسی عہدے پر سبکدوش بھی ہوئے۔ انکے منظومات ، افسانے اور مضامین اس وقت سے ہی وادی کے اخبارات میں چھپنے لگے جبکہ وہ ابھی نویں جماعت کے ہی طالب علم تھے اور بعد میں یہ سلسلہ ریاست اور ریاست سے باہر کے موقر اخبارات رسائل اور جراید میں چھپنا جاری رہا۔ جن میں شیرازہ کشمیری، شیرازہ ادو ، سون ادب ،ہمارا ادب (جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی)، ترجمان الحق ( اسلامک سٹیڈی سر کل)،آغاز (مظفر آباد)، چٹان (سرینگر) ،عالمی سہارا (حیدر آباد) ، امکان ( کلچرل ٹرسٹ کپوارہ )،نیلم ( ہائر سکنڈری سکول کپوارہ)، انجمن ( کلچرل ٹرسٹ کپوارہ)، نصرة الاسلام (سرنیگر) ،ون پوش ( ڈگری کالج کپوارہ )،الانور دارالعلوم کپوارہ)، گفتار ( سر ینگر)،نیرِچ نَے (کلچرل ٹرسٹ کپوارہ)، آلو (محکمہ اطلاعات) ،پر گاش ( پریس انفار میشن بیرو آف انڈیا )، پر و= ( ادبی مرکز کمراز )، پرتَو (دایرہ ادب دِلنہ)،لولاب (کلچرل ٹرسٹ)، گلالہ (کشمیر یونیورسٹی) کاج ناگ ( بزم ادب کاج ناگ ماور)، ترال ( ہائر سکنڈ ری ترال )، دی لولاب ( ڈگری کالج سوگام )، ڈائٹ کپوارہ، مومن، تعمیر(محکمہ اطلاعات) وغیرہ کے علاوہ جموں وکشمیر کے لگ بھگ سارے روزنامے شامل ہیں۔اسکے علاوہ انکے کچھ افسانے معروف مدیر خشونت سنگھ اور معروف ادیبہ نرجامٹوصاحبہ نےانگریزی میں ترجمہ کرکے اپنی کتابوں۔ مائی فیوریٹ شارٹ سٹوریر فرام انڈیا) اور سٹرینجربسائڈمی) میں اور اسی طرح دہلی کی الف پبلکیشز نے بھی انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع کئے ہیں۔انکی آج تک کی شائع کردہ کتابوں کی مختصر تفصیل یوں ہے ۔
(۱) : مقالات اطہر…. جو بارہ تحقیقی مضامین پر مشتمل کشمیری زبان میں کتاب ہے۔،(۲):کپوارہ دی کراون آف کشمیر (جو انگریزی زبانی میں کپوارہ ضلع کی علمی ، ادبی ،جغرافیائی اور تہذیبی تاریخ ہے۔(۳):ل±کھ کر ین واپس ( جو معروف ڈوگری ادیب وید راہی کے افسانوی مجوعہ آلے کا کشمیری ترجمہ ہے۔ اسپر اطہر صاحب کو نیشنل ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ بھی ملا ہے۔(۴): سورہ الحجرات اور ہماری زندگی۔ (یہ قرآن کریم کی سورت الحجرات کی جدید طرز کی تفسیراردوزبان میں ہے)۔(۵):و لو کو شر ہیچھو۔ ( یہ کشمیری رسم خط سکھانے والی کتاب ہے )۔(۶):آیئے کشمیری سیکھیں۔ (یہ اردو دانوں کیلئے کشمیری رسم خط سکھانے والی کتاب ہے)۔(۷):پتھ ونک/ کوستوری۔ ( یہ کپوارہ ضلع کے گمنام شعراءو ادباءپر تحقیق ہے۔ جسے سنٹرل انسٹی چوٹ آف انڈین لینگو یجز میسور نے شائع کیا ہے )(۸): قرآن اور کمپیوٹر۔ (یہ قرآن کریم کے اعجاز پر مبنی کتاب ہے)(۹): ہی تھر۔( اسمیں کشمیری شاعری شامل ہے)۔(۰۱):ٹوٹھ نبی ۔(یہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب سرور المخرون کا کشمیری ترجمہ ہے)۔(۱۱) رشوت۔( یہ رشوت کی لعنت پر ایک مدلل کتاب ہے)۔(۲۱)۔علی شاہ ہرل۔(یہ کپوارہ ضلع کے قدیم رزمیہ نگار علی شاہ ہرل کی زندگی اور اسکی نگارشات پر تحقیق ہے)۔(۳۱)ابن حسام سوپوری۔( یہ سوپور کے معروف عالم اور شاعر ابن حسام کی زندگی پر تحقیق ہے)۔(۴۱) بحث تہ تحقیق۔ ( یہ علمی ، ادبی اور تحقیقی مقالات پر مبنی زخیم کتاب ہے)۔(۵۱) ڑانگی تندل۔( یہ کشمیرکے معروف شعراءو ادباءکے سوانحی مقالات پر مبنی ہے)۔(۶۱) سورہ النور اور ہماری زندگی۔ ( یہ قرآن کریم کی سورہ النور کی بے بہا تفسیرہے)۔(۷۱)دی ویلی لولاب ( یہ وادی لولاب سے متعلق سیاحوں کیلئے انگریزی میں ایک شاندار گائیڈ ہے)۔(۸۱):دشمن (یہ موصوف کے کشمیری افسانوں کا مجموعہ ہے )۔(۹۱) سورہ والعصر اور ہماری زندگی( یہ قرآن مجید کی سورہ والعصر کی شاندار تفسیرہے)۔(۰۲) عالمی افسانہ ( یہ دنیا کے مشہور افسانوں کا کشمیری ترجمہ ہے)۔(۱۲)سفر محمود(یہ حجاج کرام کیلئے ایک گائیڈ ہے)۔(۲۲)و.ند= باوتھ ( یہ موصوف کی کشمیری شاعری کا مجموعہ ہے )۔(۳۲)سید میرک شاہ نازک (یہ لولاب کے معروف شاعر نازک لولابی کی حیات اوراسکے کارناموں پرمشتمل ہے)۔
اطہر صاحب بحثیت افسانہ نگار
ا طہرصاحب ایک اچھے افسانہ نگار بھی ہیں۔انکے افسانے ریاست کے مختلف اخباروں اور رسائل میں چھپتے رہے ہیں اور ریڈیو کشمیر کلچرل اکیڈیمی اور مختلف ادبی محفلوں میں پڑھے گئے ہیں۔ انکا ایک افسانوی مجموعہ” دشمن“ کے نام سے چھپ بھی گیا ہے۔
بحیثیت انشائیہ نگار
اطہرصاحب نے بہت سارے انشائیہ بھی لکھے ہیں۔ جن میںسے کرسی، انکا واری، یِژھ مشید تِتھی امام ، اتھ، نس، ا<چھ ،ہو کھئے ، عید وغیرہ مشہور ہوئے اور اکثر انشائیے مختلف اخباروں اور جریدوں میں چھپ بھی گئے ہیں
بحیثیت ترجمہ کار
اطہرصاحب ایک کامیاب ترجمہ کار بھی ہیں۔ انہوں نے معروف ڈوگری ادیب وید راہی کے افسانوی مجموعہ ”آلے“ کا کشمیری ترجمہ”لکھ کرین واپس “ کے نام سے کیا ہے۔ جس پرانہیں نیشنل ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ بھی ملا ہے۔ اسکے علاوہ انہوں نے معروف مفسر قرآن مولاناشبیر عثمانی کی تفسیر قرآن کے چھ پاروں کا کشمیری ترجمہ بھی کیا ہے۔ اور دنیا کے معروف افسانہ نگاروں لیو ٹالٹاے۔جیروم کے جیروم، ناگن سائکیا، خشونت سنگھ، گوبند پنجابی، جیمز جنیز،پنڈت نہرو، اپور باشرما، خلیل جبران ،جانا تھن سوفٹ ، شیکسپیر،ایچ جی ویلز اور پریم چند کے افسانوں کا کشمیری ترجمہ بھی کیا ہے جو اسکی عالمی” افسانہ “نامی کتاب میں چھپ بھی چکے ہیں اسکے علاوہ معروف عالم دین شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب سرور المخرون کا بھی کشمیری ترجمہ”ٹوٹھ نبی“ کے نام سے کیا ہے جو چھپ چکا ہے
اطہر صاحب بحثیت مدیر
اطہرصاحب گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول کپوارہ کے رسالہ نیلم کے بانی بھی ہیں اور اسکے مدیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ اسی طرح کلچرل ٹرسٹ کپوارہ کے رسائل امکان اور انجمن کے بانی اور مدیر بھی رہ چکے ہیں اسی طرح انہوں نے مرحوم عتیقہ جی کے کشمیری اخبار میراث کی بھی کچھ وقت تک ادارت کی ہے۔
بحیثیت ڈرامہ نو یس
اطہر صاحب نے لل دید، جھنجال، امتحان، موج کشیر،اکہ نندُن کشمکش نام کے کئی ڈرامے بھی لکھے ہیں ،جن میں سے اکثر کلچرل اکیڈیمی کے ڈرامہ فیسٹولوں میں سٹیج بھی ہوئے ہیں اور ایک ڈرامہ” بہادر شاہ ظفر“کا اردو روپ پاکستانی ٹیلی وڑن سے ٹیلی کاسٹ بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کلکتہ میں انڈین مائم تھیٹر میں تھیٹر ورکشاپ کے دوران ”تمثیل آدم “نام کا ایک مایم ڈرامہ لکھ کر سٹیج بھی کیا ہے ۔انہوں نے اپنے کئی ڈراموں میں خود بھی ایکٹنگ کر کے انعامات حاصل کئے ہیں۔
فلم : اطہر صاحب نے بمبئی کی ایک معروف فلم انڈسٹری ” ہل مین فلمز “کو وادی لولاب پر بنائی گئی انگریزی ڈاکیومنٹری میں مواد کی فراہمی اور اسکو تیار کرنے میں مدد دی ہے۔ جس پر انہیں اس کمپنی نے تو صیفی سند بھی دی ہے۔
بحیثیت بانی کلچرل ٹرسٹ کپوارہ
محترم اطہر صاحب نے 1974 ءمیں مرحوم زاہد سوگامی، عبد العزز مستان ،عبد القیوم ممنون ، مرحوم اختر ترہگامی اور عبد العزیز ساحر سے ملکر کپوارہ ضلع کے شعراءاور ادباءکو مجتمع کر کے کلچرل ٹرسٹ کپوارہ کی بنیاد ڈالی ،جو اب تک روان دواں ہے اور اب اسکی شاخیں ادبہ کو چھ بزم ادب را محال، جوئے ادب ماور، ادارہ تحقیق ادب ،انجمن ادب و ثقافت لولاب ، شہبجا را ادب لولاب اور دوسری ادبی تنظیموں کی صورت میں بار آور ہوئی ہیں۔
اطہر صاحب اور ترقیاتی منصوبے
اطہر صاحب نے ریاستی اور مرکزی ترقیاتی منصوبوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے بہت ساری کتابیں اور پمپلٹ بھی چھاپ لئے ہیں۔جن میں قومی دیہی صحت میشن ۔ قومی سماجی امدادی پروگرام ریاست میں اور تعلیمی ترقی ، ولایتی مرغی، ایڈس، ہدایت نامہ اساتذہ ،بچوں کی عام بیماریاں، فسٹ ایڈ ، خوشحال کنبہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس خدمت کے عوض انہیں محکمہ صحت، فیلڈ پبلسٹی آف انڈیا، ایڈس کنٹرول محکمہ وغیرہ سے توصیفی اسناد بھی ملی ہیں۔
بحثیت شاعر
اطہر صاحب ایک منجھے ہوئے اردو اور کشمیری زبان کے شاعر بھی ہیں اور انکی منظومات ریاست اور ریاست سے باہر اخبارات اور رسائل میں چھپ بھی رہے ہیں۔ اسکے علاوہ انکی کشمیری شاعری کا ایک دیوان ”ووند=باوتھ“ کے نام سے شائع بھی ہوا ہے۔اطہر صاحب کے وہ کتابی مسودے جو ابھی چھاپ نہیں ہوئے ہیں۔ علم و ادب اور دین کی خدمات کے سلسلے میں جو کام محترم اطہر صاحب نے کیا ہے اس کا بیشتر حصہ ابھی چھاپ نہیں ہو سکا ہے جن میں۔ مولانا شبیر عثمانی کی تفسیرقرآن کے چھ پاروں کا کشمیری ترجمہ ” ناول چنار کے سائے میں“، کلام اقبال پر شعری مقابلہ، کلام شیخ العالم پر شعری مقابلہ قرآنی کوئز، رہبر حجاج ، کلام غالب پر کوئز ، ڈائے ساس کاشر/ محاور= ، ڈرامہ ، انگلش کشمیری گانڈ ،میرے اردو مضامیں۔ میرے اردو افسانے کسک (اردو شاعری کا مجموعہ) ، مشاہیر کپوارہ،ہدیہ وغیرہ شامل ہیں۔
تبصرے اور پیش لفظ
محترم اطہر صاحب نے کئی ادباءاور شعراءکی کتابوںپر تبصرے اور پیش لفظ بھی لکھےہیں۔جن میں رسالہ نیلم ،رسالہ امکان کے علاوہ، خزینہ اسرار ( علی محمد ڈار) ، کاج ناگ ( جوئے ادب ماور ) مصیبتیں ہند علاج (خالق شمس) زندگی یونہی تمام ہوتی ہے (نذیر جو ہر) مرزا عارف نمبر ( کلچرل اکیڈیمی) چمنستان اردو (ابو فراز) سبعہ معلقات ( محمد یوسف مشہور) شہجار ادب رسالہ، گل امارن ہندی (رمضان فردوسی) لولہ ون ( میر درد پوری) لولہ= ساگر (مشتاق ساگر) آکھ (مشتاق احمد مشتاق) سفر محمود (رحمت اللہ خان) دگ (ثناءاللہ تنائی) اوراق پریشان (غلام رسول بانڈے)وغیرہ شامل ہیں۔
جن معروف ادباءنے اطہر صاحب کی کتب پر پیش لفظ یا تبصرے لکھے:
(۱)۔مقالاتِ اطہر( بشیر اطہر – مشعل سلطان پوری ، ڈاکٹر آزردہ)(۲) سورة الحجرات ( مولوی عبد العزیز مرحوم حبیب اللہ وانی جار اللہ)(۳)۔لُکھ کرین واپس (ڈاکٹر زمان آزردہ)، (۴): سورہ النور اور ہماری زندگی (مولانا مفتی مظفر حسین صاحب) ۔(۵):ویلی آف لولاب )(محترم عبد الحق خان سابق وزیر ریاست)،(۶) بحث تہ تحقیق (محمد یوسف ٹینگ)،(۷) ڑانگی تندل ( محمد یوسف ٹینگ)،(۸)دُ±شمن (ڈاکٹر محمد زمان آزردہ)،(۹): ووند=باوتھ (ڈاکٹر محمد زمان آزردہ)،
اطہر صاحب بحیثیت استاد
اطہرصاحب محکمہ تعلیم میں ایک معروف اور کامیاب استاد ہونے کا مقام حاصل کر چکے ہیں۔ جس بھی ادارے میں گئے وہاں کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دیا۔ سنٹرل سکول مچھل کے سربراہ بن کر گئے تو طلباءکا رول گھر گھر جاکر دو مہینے کے اندر اندر سات سے 65پہنچایا۔ اس مدرسے کی عمارت جو ایک چھوٹے سے کو ٹھے میں تھی اور جس کے گرد مویشی بندھے ہوتے تھے۔ اس عمارت کے گرد کچھ زمین خالی کر کے اسکی جنگلہ بندی کی اور عمارت کو رنگ و روغن سے سجا کر ایک اچھے مدرسے کی شکل دی اور اساتذہ کی حاضری کو باقاعدہ بنایا۔ہائی سکول ولگام، ہائی سکول گلگام ،ہائر سکنڈری سکول تر ہگام، ہائر سکنڈری سکول در گمولہ میں تمدنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ہائر سکنڈری سکول کپوارہ میں رسالہ نیلم کا آغاز کیا۔ غیر تدریسی سرگرمیوں کا ایک بڑا سلسلہ شروع کیا۔کانفرنس ہال کی تعمیر اور سکول کے لانوں کی تزین کاری میں پرنسپل حضرات کے ساتھ تن من دھن سے کام کیا۔ اپنے مضمون کشمیری کو تیرہ سال تک باقاعدہ گی سے پڑھا کر گیارھویں اور بارھویں جماعت میں سو فیصد کامیابی کا نتیجہ دکھایا، سوشل ایجوکیشن ٹیچر اور ڈائٹ کپوارہ میں اڈلٹ ایجوکیشن کے انچارج کی حیثیت سے قابل فخر کام کیا اسطرح کہ انکے ماتحت اڈلٹ ایجوکیشن سنٹر ضلع میں نمونے کے کامیاب سنٹر بنے جن میں بالغ مردوں اور عورتوں کی تعداد پچاس سے سو تک ہوا کرتی تھی اور بالغوں کو پڑھانے کے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے تھے۔ جن میں ٹیپ ریکارڈنگ ، ویڈیو گرافی اور انعامی مقابلے وغیرہ شامل تھے۔ اطہر صاحب نے اپنی سروس کے دوران ہزاروں اساتذہ کی نئی تالیمی پالیسی، انگریزی ،کشمیری اور سوشل سائنس کے مضامیں پڑھانے میں بحثیت رسیورس پرسن تربیت بھی کی۔ اور قومی سطح پر کشمیری نصاب کی تدوین میں بھی خصوصی حصہ لیا۔ اطہرصاحب نے جس بھی ادارے میں کام کیا۔ اپنی محنت لگن اور نمایاں کار کردگی کے صلے میں اپنے آفیسر حضرات کی توصیفی استاد اور انکے ایوارڈ حاصل کئے۔ جنکا ایک انبار انکی لائبریری میں موجود ہے
تو صیغی استاد اور ابوارڈ
محترم اطہر صاحب نے آج تک کافی ساری توصیفی اسناد اور کئی ایک ایوارڈ حاصل کئے ہیں۔ آپ نے 1912 ءکا نیشنل ساہتہ اکیڈیمی کا ٹرانسلیشن ایواڈ، جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی کا بیسٹ ایکٹر اور بیسٹ ڈرامہ سکرپٹ رائٹر کا ایوارڈ، فیلڈ پپبلسٹی گورنمنٹ آف انڈیا کا سوشل ایویر نیس ایوارڈ۔ہل مین فلمز بمبئی کے توصیفی اسناد ، انڈین مائم تھیٹر کلکتہ کے توصیفی استاد اور اپنے محکمے کے مختلف سربراہان کے بہت سارے تو صیفی اسنادحاصل کئے ہیں۔غرض میری نظر میں محترم اطہرصاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ خدا انہیں دیر پا تند رستی اور عزت عطا کرے اور انہیں ادب اور دین کی مذید خدمت کرنے کی مہلت دے۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published.