درست دنیا میں جہاں حضرت امام عالی مقام ؑاور دیگر اہل بیت رسول ﷺ کو خراج عقیدت پیش کرنے اور آپ ؑ کی شہادت کی یاد تازہ کرنے کے لئے عزاداری کے جلوس نکالے جاتے ہیں، مجالس کا اہتمام کیا جارہا ہے، وہیں ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی عقیدت مند اہل بیت رسول ﷺ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔دینی مجالس کا ہتمام کرتے ہیں اور مرثیہ خوانی کی جاتی ہے۔شہر و دیہات میں آپ ؑ کے نام پر نذرونیاز تقسیم کیا جاتاہے اور اس طرح حق و باطل کے معرکے میں شہید ہوئے معصومین ؑ کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔پہلے ایام کے دوران جوں ہی محرم الحرام کا مہینہ قریب آجاتا تھا، تومسلم برادری سے وابستہ سبھی لوگ بغیر کسی مسلک اور جماعت کے اپنی اپنی بساط اور طاقت کے مطابق بے لوث طریقے سے خراج پیش کرتے تھے۔وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ مسلم برادری سے وابستہ لوگوں میں تبدیلی آگئی ،وہ مختلف مسلکوں اور فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے۔آج کے دور میں مسلم برادری سے وابستہ بہت سارے لوگ عزاداری کے جلسوں ،تعزیتی مجالس اور ان ایام کے دوران تقسیم ہورہے نذر و نیاز کو بدعت سے تعبیر کرتے ہیں۔اب مسلم برادری میں بہت سارے لوگ محرم کو ایک مخصوص مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ جوڑدیتے ہیں، گویا ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ باقی مسلم برادری سے وابستہ لوگوں کو شہادت اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں( نعوزباللہ)۔بہر حال جہاں تک کربلا کے واقعہ کا تعلق ہے یہ تمام انسایت کے لئے ایک سبق آموز واقعہ ہے۔
نواسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے گردن مبارک کٹنے کو ترجیح دی نہ کہ باطل قوت کے سامنے اپنے سر مبارک کو جُھکاناگوارا کیا۔آپ ؑ ایک ایسی حکومت کا قیام چاہتے تھے جو واقعی پیغمبر آخرزمان ﷺنے انسانیت کی بقاء،تعمیر و ترقی،معاشی بہتری ، انصاف و عدل اور یکسانیت پر مبنی ہوتی، جس کا قیام پیغمبر اسلام ﷺنے کیا تھا۔جہاںحضرت بلالؓکو وہ رتبہ، منزل و مقام عطا ہو ا تھا جو قبیلہ قریش کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور اثر و رسوخ رکھنے ولوں کو نہیں ملا تھا۔ جہاں تک موجودہ دور کا تعلق ہے، آج بھی اُسی طرح کمزور اور لاچار انسانوں پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہے ،جو نبووت سے قبل عرب سرزمین میں بلخصوص اور باقی دنیا میں بلعموم ہو رہی تھی۔طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں کو کچلاجاتا تھا، اُس کا حق مارا جاتا تھا ، عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈالے جاتے تھے،یتیموں کا مال ہڈپ لیا جاتا تھا۔غرص طرح طرح کے بدعات سے کام لیا جاتا تھا۔یزیدی حکومت کے قیام کے دوران اسی طرح کا ماحول قائم کیا گیا تھا جس کے خلاف امام عالی مقام نواسہ رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف یزیدی حکومت کے خلاف آواز بُلند کی تھی بلکہ اُن کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے بھی انکار کیا ، جو بعد میں ایک معرکے میں تبدیل ہوا۔امام حسین ؑ کے اس عظیم کارنامے کو یاد کرنا یا اُن کا ذکر کرنا ایک عظیم کام ہے لیکن کربلا کاپیغام حقیقی معنوں میں عملانا سب سے بڑا کام ہے جو وقت کے مسلمان یکسر بھول رہے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جائے ، مظلوموں کو اپنا حق دلانے کے لئے طاقت کے مطابق جہد و جہد کرنی چاہیے ، اپنے آپ کو حسینی رنگ میں رنگنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حق و صداقت کی آواز بلند ہوسکے اور انصاف کے عین مطابق ہر ایک کو اپنا حق فراہم ہو سکے جو آج کل جمہوری نظام قائم کرنے والے ممالک میں کسی حد تک عملانے کی کوشش کی جارہی ہے۔