بہترین ذہانت اور قابلیت۔۔۔۔

بہترین ذہانت اور قابلیت۔۔۔۔

جموں و کشمیر کے سینکڑوںطلباو طالبات نے گزشتہ مہینے لئے گئے ،قومی سطح کے نیٹ امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک کے بچوں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کے بچوں میں بھی بہترین ذہانت اور قابلیت موجود ہے۔جموں کشمیر خاصکر وادی کے اکثر بچوں میں یہ قابلیت ہے کہ وہ ملکی اور عالمی سطح پر ہر ایک میدان میں مقابلہ کر سکتے ہیں ۔نہ صرف تعلیم کے میدان میں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی وادی کے بچوں نے اپنا لوہا منوایا ہے ،جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔وادی کے لوگوںنے اس قبل بھی مختلف شعبوں میں میدان مار لیا تھا اور اُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔اس سے قبل بھی ڈاکٹرشاہ فیصل،ڈاکٹرصحرش اصغر،ر خورشیدا حمد گنائی اور تنویر جہاں جیسے درجنوںاُمید واروں نے بھی اپنے زمانے میں ’آئی اے ایس ،آئی پی ایس ‘کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھیں اور انہوں نے ملک اور جموں وکشمیر کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر کام کیا ہے اور کر رہے ہیں۔جہاں تک کھیل کے میدان کا تعلق ہے، اس میں بھی پرویز رسول ،صادیہ طارق اور تجمل السلام جیسے کھلاڑیوں نے ملکی اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے اور اس طرح ملک اور جموں کشمیر کا نام روشن کیا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پہلے ایام میں جموں کشمیر کے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ ملک کے اس خطے میں نہ ہی زیادہ انجینئرینگ کالج نہ ہی میڈیکل کالج تھے۔ملک میں بی جے پی سرکار وجود میں آتے ہی جموں کشمیر میںتقریبا ایک درجن ایسے پروفیشنل کالج تعمیر کئے گئے، جن میں جموں کشمیر کے بچوں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کے بچوں کو تعلیم و تربیت کا موقع فراہم ہو رہاہے۔اب یہاں کے کالجوں میں بھی سیٹوں کی اچھی خاصی تعداد رکھی گئی ہے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ بچے مستفید ہورہے ہیں اور ذہین اور قابل بچے بہ آسانی انجینئر اور ڈاکٹر بن رہے ہیں ۔

پہلے ایام میں غریب اور مالی طور کمزور لوگوں کے بچوں کو اس طرح کا موقع نہیں ملتا تھا بلکہ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں کے بچوں کوہی آگے جانے کا موقعہ مل رہا تھا۔اب چونکہ سب کچھ آن لائن موڑ پر کام ہو رہا ہے اور رشوت و اثر رسوخ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، یہ بھی ایک سب سے بڑی وجہ ہے کہ اب دور دراز علاقوں کے بچے اور کمزور طبقوں سے وابستہ غریب بچوں کو موقع فراہم ہورہا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے، اس کے لئے مرکزی حکمران مبارک بادی کے مستحق ہیں، جنہوں نے ملکی سطح پر لئے جارہے امتحانات میں شفافیت لائی ہے اور اس طرح جموں کشمیر کے قابل وذہین محنت کش بچوں کو آگے جانے کا موقع فراہم ہو رہا ہے۔منظر عام پر آئے حالیہ نتائج سے یہ بات صاف ہو رہی ہے کہ عام لوگوں کے بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ یوں ہی صاف و شفاف طریقے سے چلتا رہے گا۔عوامی حلقے نئی مرکزی سرکار سے یہی اُمید رکھتے ہیں، جو چند روز میں نریندر مودی کی سربراہی میں تیسری بار مسند اقتدار پر براجمان ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.