نئی دہلی،: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے بدھ کے روز مغربی بنگال میں پاکستان سے منسلک ایک کیس میں، جس میں مسلم نوجوانوں کی ممنوعہ لشکرِ طیبہ دہشت گرد تنظیم کے لیے بھرتی اور انتہا پسندی میں ملوث ہونے کا الزام تھا، ایک کلیدی ملزم کو دس سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔
کولکتہ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے احکامات کے مطابق ، کرناٹک کے اتر کنڑ ضلع کے سید ایم ادیس کو آئی پی سی اور یو اے (پی) ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت بیک وقت مجرم قرار دیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ۔10 سال سخت قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ملزم پر 70 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے
این آئی اے نے یہ کیس اپریل 2020 میں مغربی بنگال پولیس سے سنبھالا تھا اور تفتیش کے دوران ادریس کو جے اینڈ کے کے الطاف احمد راتھر کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔
تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ دونوں افراد نے تانیہ پروین کے ساتھ سازش کرکے ایک لشکرِ طیبہ ماڈیول تشکیل دیا، جس میں مقامی لوگوں کی بھرتی کی گئی۔ تانیہ کو مارچ 2020 میں بدوریا، نارتھ 24 پرگنہ میں مخصوص اطلاع کی بنیاد پر ایس ٹی ایف، مغربی بنگال پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ تلاشی کے دوران ایس ٹی ایف ٹیم نے قابل اعتراض مواد اور دیگر شواہد بھی ضبط کیے تھے۔
مزید یہ کہ تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا تھا تاکہ وہ ہندوستان کی حکومت کے خلاف جہاد میں حصہ لیں۔
تحقیقات میں مزید پتہ چلا کہ ستمبر 2020 اور مئی 2021 میں، این آئی اے نے تین گرفتار ملزمان اور دو پاکستان میں موجود فرار ملزمان، جنہیں عائشہ (عائشہ برہان/عائشہ صدیقی/سید عائشہ) اور بلال (بلال درانی) کے نام سے شناخت کیا گیا، کے خلاف چارہ جوئی کی۔
ان دو فرار ملزمان کے خلاف ریڈ اور بلیو کارنر نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ کیس میں دیگر دو گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔
یو این آئی





