طرز زندگی میں تبدیلی

طرز زندگی میں تبدیلی

وادی میں سردیوں کے ایام شروع ہوتے ہی لوگوں کو نہ صرف مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بچے اور بزرگ مختلف قسم کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔امسال چلہ کلان سے قبل ہی وادی شدید سردی کی لپیٹ میںآچکی ہے اور درجے حرات میں کافی زیادہ گراوٹ کے سبب صبح وشام کافی زیادہ سردی محسوس کی جارہی ہے۔سردی کی شدت سے بچے اور بزرگ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اس طرح اسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلنکوں پر لوگوں کی قطاریں نظر آرہی ہیں ۔جہاںتک وادی میں سردیوں کا تعلق ہے یہ صرف آج ہی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے بلکہ پہلے ایام میں بھی اس سے زیادہ سردی ہوتی تھی مگر لوگ ان سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیاریاں رکھتے تھے اور کھانے پینے میں بھی احتیاط کرتے تھے۔پہلے ایام میں وادی میں زیادہ تر کچے مٹی کے مکان ہوتے تھے ،جن کی چھت وغیرہ بھی لکڑیوں کے ہوتے تھے اور ان مکانوں میں فرش کا بھی موسم کے مطابق انتظام ہوتا تھا ۔جہاں تک کھڑکیوں اور دروازوں کا تعلق ہوتا تھا وہ بھی بہت کم ہوتے تھے اور اکثر کھڑکیوں میں شیشے دےکھنے کو نہیں مل رہے تھے اور ان مکانوں کی دیواریں بھی بہت موٹے اور مضبوط ہوتے تھے اسطرح باہر کی ٹھنڈ ان مکانوں کے اندر داخل نہیں ہوتی تھی ۔ آج سب کچھ بدلہ بدلہ سا نظر آرہا ہے۔
لوگوں نے شہر و دیہات میں پختہ مکان تعمیر کئے ہیں جن میں زیادہ تر ماربل اور ٹائیلوں کا استعمال ہوتا ہے اور چھت بھی سیمنٹ کے بنائے جاتے ہیں ،اکثر مکان شیش محل کے مانند ہوتے ہیں ۔جہاں تک فرش کا تعلق ہے اگر چہ ہر گھر میں قالین بچھائیں ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان مکانوں میں شدید سردی محسوس کی جارہی ہے نتیجہ کے طور پر لوگ بیمار ہورہے ہیں ،ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کی ہر کوئی شکایت کرتا ہے۔یہاں یہ بات کہنا بھی بے حد لازمی ہے کہ پُرانے ایام میں زیادہ تر لوگ سردی کے دوران گھروں کے اندر ہی مختلف قسم کے دستکاری کام کرتے تھے کیونکہ نہ ہی سرکاری ملازمت تھی اور نہ ہی موجودہ دور کی طرح تجارت نہ ہی زیادہ خرچات ہوا کرتے تھے ،کمنبے کا ایک فرد کماتا تھا اور گھر کے دس افراد آرام سے کھاتے پیتے تھے۔اس کے برعکس آج ہر ایک کو کام کرنا پڑتا ہے ، عورتیں بھی سرکاری اور پرایﺅیٹدفتروں میں کام کرتی ہیں پھر بھی آمدنی کم پڑھ جاتی ہے۔بچوں کے رشتے میں سب سے پہلے مکان کی اونچائی اور چوڑائی ناپی جاتی ہے اور ملازمت کرنے والی لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے وہ شدید سردی کے باوجود گرم کپڑے نہیں پہنتے ہیں کیونکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو زیادہ کپڑے پہنے میں شرم محسوس ہو تی ہے نتیجہ کے طور پر وہ گھر پہنچتےہی سرد رد اور بدن درد کی شکایت کرتے ہیں ۔
جہاں تک چلہ کلان کا تعلق ہے اس کے آمد پر اہل وادی یہ سوچ کر خوش ہوتے تھے کیونکہ انہیں بخوبی معلوم ہوتا تھا کہ اس میں جم جانے والا برف اُن کے آنے والے کل کے لئے بہتری اور خوشحالی کی نوید لیکر آئے گا۔انہوں نے چلہ کلان کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام تیاریاںکی ہوتی تھی جبکہ آج کے لوگ سردی کو اپنے لئے مصیبت مانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنا لائف اسٹائل تبدیل کیا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنے اسلاف کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں،چلہ کلان کی شدید سردیوں سے بچنے کے لئے بہتر ڈھنگ سے کپڑے پہننے کی عادت ڈالیںاپنے لائف اسٹائل میں بے ہنگم تبدیلی سے پرہیز کریں اور موسم کے مطابق اپنی زندگی گذارنے کی عادت ڈالیںتاکہ وہ بیماریاں اُن کے قریب سے ناگذریں جو سردی کی وجہ سے ہو جاتی ہیں۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.