آگ وارداتیں۔۔۔

آگ وارداتیں۔۔۔

وادی جہاں ایک طرف شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ، وہیں آگ کی ہولناک وارداتوں میں لوگوں کے جان و مال کو زبر دست نقصان پہنچ رہا اور سردی کے مشکل ترین ایام میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں ۔اعداد و شمار کے مطابق صرف نومبر کے مہینے میں وادی میں 53آگ کی وارداتیں رونما ہوئیں جن میںمکان و دکان نہ صرف خاکستر ہوئے بلکہ ان میں موجود سارا مال و جائیداد کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔سردیوں میں آگ کی زیادہ وارداتیں کیوں رونما ہورہیہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ شدید سردی مانی جاتی ہے ۔لوگ سردیوں سے بچنے کے لئے گرمی کے مختلف انتظامات کرتے ہیں، گرم پانی کے لئے ہیٹروں اور بوئلروں کا استعمال کرتے ہیں، پاور کمبلوں اور روم ہیٹروں کا بھی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے اور لوڈنگ ہوتی ہے اور مکانوں اور دوکانوں میں لگی تاریں کمزور ہوتی اور اکثر و بیشتر شارٹ سرکٹ ہوتا ہے جس سے آگ کی وارداتیں رونما ہوتی ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ کبھی کبھی لوگ ہیٹر اور بوئلر بند کرنا بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے بھی حادثات ہوتے ہیں ۔جہاں تک کانگڑیوں کے استعمال کا تعلق ہے، کشمیر میںیہ سردیوں کے ایام کے دوران ہر گھر کی زینت بن جاتی ہے، کچھ لوگ رات کے دوران بھی ان کانگڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جن کی وجہ سے بھی آگ کی واردات رونما ہوتی ہیں۔یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگ چو لہے کا استعمال کرتے ہیں اور حماموں میں بھی آگ جلائی جاتی ہے ،کبھی کبھی بند کرنے کے باوجود ان میں چنگاریاںموجود رہتی ہیں جن میں بلی گرمی کرنے کی غرض سے بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بالوں میں یہ چنگاری لگ جاتی ہے جو وہ گھاس پھوس پر ڈال دیتی ہے، اس کی وجہ سے بھی آگ کی وارداتیں رونماہوتی ہیں۔ گھروں میں گیس بخاریوں کا رواج بھی عام ہو چکا ہے ،لوگ رسوئی کے علاوہ کمروں میں بھی گرمی کےلئے گیس بخاریوں کا استعمال کر تے ہیں جن کی وجہ سے بھی آگ لگ جاتی ہے۔ باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ بات سو فیصد صحیح ہے کہ لوگوں کی غفلت شعاری اور لاپرواہی سے ہی اس طرح کی وارداتیں ہوتی ہیں،جو بعد میں پورے گھر یا پورے محلے کے لئے وبال بن جاتی ہیں۔
محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے اہلکار اگر چہ ہر تحصیل ہیڈ کوٹر پر دن رات متحرک رہتے ہیں تاکہ کوئی خبر ملتے ہی وہ حفاظتی کام انجام دے سکےں لیکن ہماری سڑکوں کی خستہ حالی اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ بھی بچاﺅ کارروائیاں بہتر ڈھنگ سے انجام نہیں دے پاتے ہیں۔لوگوں کو اس حوالے سے خود باخبر ہو ناچاہیے اور ہر وقت احتیاتی تدابیر سے کام لینا چاہئے۔سونے سے قبل گھر کے ہر کمرے میں دیکھنا چاہیے، کہیں کوئی ہیٹر یا بلوور آن تو نہیں کیونکہ سردیوں کے ایام میں بجلی اکثر و بیشتر غائب رہ جاتی ہے اور لوگ بھول جاتے ہیں کہ ان کا ہیٹر یا بلوور آن ہے، جب اچانک بجلی آجاتی ہے تو حادثہ ہونے کا احتمال رہتا ہے۔اگر لوگ سوچ سمجھ سے کام لیں گے اور ہر وقت ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو آگکی بڑ ھتی وارداتوں پر قابو پایا جاسکتا ہے،جن کی تعداد میں فی الحال اضافہ ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.