جموں و کشمیر میں مختلف نوعیت خواتین مخالف جرائم میں اضافہ :نیشنل کرائم ریکارڈ س بیورو

جموں و کشمیر میں مختلف نوعیت خواتین مخالف جرائم میں اضافہ :نیشنل کرائم ریکارڈ س بیورو

2020،2021اور2022میں کل11,000مقدمات کااندراج

اغواکاری،جبری شادی ،دست درازی،آبروریزی اورگھریلو تشدد کے واقعات شامل: رپورٹ

سری نگر: جموں وکشمیرمیں حالیہ کچھ برسوں کے دوران خواتین کیخلاف مختلف نوعیت کے جرائم بشمول اغواکاری،دست درازی اورآبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ،جسکے نتیجے میں عوامی حلقوںمیں سخت تشویش پائی جاتی ہے جبکہ جموں وکشمیر پولیس ایسے واقعات کی روکتھام اورمغویہ واغواکاروںکافوری سراغ لگانے میں متحرک ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ س بیورو (NCRB) کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین کرائم ان انڈیا رپورٹ2022 کے مطابق، جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔بمطابق رپورٹ جموں وکشمیرمیں سال2020 اور 2022کے درمیان خواتین مخالف جرائم سے متعلق11ہزار سے زیادہ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔NRCBکی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ سال2021 میں3937 واقعات میں معمولی کمی کے باوجود، جموں و کشمیر میں2022 میں خواتین کے خلاف3716 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جو2020 کے 3405 واقعات سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔خواتین کی زبردستی اغواکاری ایک بڑی تشویش کے طور پر ابھری ہے ،کیونکہ2022 میں حیرت انگیز طور پر 886 واقعات رپورٹ ہوئے۔مزید برآں462مقدمات جبری شادی کے ارادے سے اغوا کاری سے منسلک تھے، اور 6 کیس انسانی اسمگلنگ سے منسلک تھے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق جموں وکشمیرمیں خواتین بشمول نوجوان لڑکیوںکی آبروریز ی کے واقعات بھی تشویشناک رہے ہیں۔کیونکہ سال2022 میں287 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ان مقدمات میں سے، 276 ملوث مجرموں کا شکار کو معلوم تھا، جو مباشرت ساتھی کے تشدد کے پھیلاو ¿ کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ2022 میں خواتین پر تشدد کے 3214 مقدمات درج کیے گئے، جب کہ 34 مقدمات جہیز پر پابندی ایکٹ 1961کے تحت آئے۔خواتین کے خلاف سائبر جرائم میں بھی اضافہ دیکھا گیا،کیونکہ سا؛2022 میں54 کیس رپورٹ ہوئے۔ان پریشان کن اعدادوشمار کے باوجود، 2022 میں جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کو پولیس نے نمٹانا ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایاگیاہے کہ تحقیقات کے لیے کل 5667 مقدمات میں سے 1929کیس پچھلے سال سے زیر التوا ءتھے۔ مزید برآں، ان مقدمات کو حل کرنے میں درپیش چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے 22 مقدمات کو دوبارہ تفتیش کے لیے کھول دیا گیا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق، خواتین کے خلاف جرائم کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 2022 میں4 فیصد بڑھ کر 445,256 ہوگئی جب کہ2021 میں پورے ہندوستان میں یہ تعداد 428,278 تھی۔میٹرو شہروں میں، جن کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہے، 2022 میں اس طرح کے جرائم میں12.3 فیصد اضافہ48,755 تک پہنچ گیا۔ریاستوں میں، اتر پردیش میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ 65,743 جرائم رپورٹ ہوئے اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں، دہلی میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ 14,247 جرائم رپورٹ ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.