صنعت کاری اور بنیادی سہولیات ۔۔۔۔۔

صنعت کاری اور بنیادی سہولیات ۔۔۔۔۔

جموں کشمیر انتظامی کونسل نے گزشتہ دنوںایک غیر معمولی فیصلے کے دوران جموں کشمیر میں چار نئی صنعتی صنعتی ایسٹیٹس قائم کرنے کو منظوری دی جو کہ تعمیر و ترقی کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے تحت جموں صوبے کے لودھی کٹھوعہ،مڈ سٹی جموں ،چندگام اور لیہار پلوامہ میں اس طرح کے صنعتی مراکز تعمیر ہونگے، جہاں صنعت کاروں کےلئے ہر طرح کی جدید سہولیات بہم رکھی جائے گی۔کسی بھی ملک ،ریاست یا یونین ٹریٹری میںتعمیر و ترقی اور خوشحالی کا راز بہتر صنعت میں پوشیدہ ہوتا ہے ، کیونکہ بہتر صنعتی ترقی سے ہی آمدنی کے اچھے راستے کھل جاتے ہیں اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن بن سکتا ہے۔

جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے، جموں صوبے کی نسبت یہاں بہتر ڈھنگ سے صنعت کو فروغ آج تک نہیں ملا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ بدامنی اور بنیادی درکار ضروریات کی عدم دستیابی مانی جاتی ہے۔وادی کشمیر موسم کے اعتبارسے بھی جموں اور ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے، اس وادی میں سردی کے ایام میں سب سے پہلے بجلی غائب ہو جاتی ہے، جو کسی بھی صنعت کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔برف بارش کے دوران سڑکوں کی حالت بھی ابتر بن جاتی ہے اور سرینگر ۔جموںقومی سڑک بھی اکثر و بیشتر بند رہتی ہے ۔

اس طرح صنعتوں کو درکار خام مال بھی وقت پر نہیں پہنچ پاتا ہے۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہاں کے زیادہ تر صنعت کار تجروبہ یافتہ نہیں ہوتے ہیں، اس لئے وہ فائدے سے زیادہ نقصان میں ہی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ایسے صنعت کار یا تو کارخانہ شروع کرتے ہی اسے بند کر دیتے ہیں یاپھر دوسرےصنعت کاروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔وادی کے مختلف علاقوں میں درجنوں صنعتی یونٹ بے کار پڑے ہیں جن کے مالکان مالی اداروں کے مقروض ہیں۔جموں وکشمیر میں نئے صنعتی ایسٹیٹس کا قیام ایک خوش آ ئندہ قدم ہے ۔تاہم انتظامیہ کو اس حوالے سے کچھ اہم اقدامات قبل از وقت اُٹھانے ہوں گے۔

ایسے کسی بھی فرد یا افراد کو صنعتی یونٹ کے لئے رجسٹریشن نہیں دینی چاہئے جس کا ماضی کا ریکاڑ ٹھیک نہ ہو جنہوں نے صنعتی یونٹ کا قیام اس لئے منظر عام پر لایا تھا کہ وہ مالی ادارے سے سبسڈی حاصل کر سکے۔صنعتی ایسٹیٹسکے قیام سے قبل پاور سپلائی کو بغیر کسی خلل کے چوبیس گھنٹے دستیاب رکھنے کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئے۔سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے ایک جامعہ منصوبہ ترتیب دینا چاہئے۔خام مال کی دستیابی کے لئے براہ راست سرینگر کے لئے مال ٹرینیں چلانی چاہیے تاکہ یہاں کے صنعت کار وںکو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایک دور رس صنعتی پالیسی مرتب کرنی چاہئے تاکہ حقیقی معنوں میں یہاں کی صنعت کو فرغ مل جائے اور یہاں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکے، اس کے لئے یہاں کی تاجر برادری کو بھی ایمانداری سے کام کر کے اپنی تجارتی پہچان قائم و دائم رکھنی چاہئے، جو گزشتہ ایام میں مسخ ہو چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.