نفس پر قابوپانے کا درس

نفس پر قابوپانے کا درس

ملک کے مختلف حصوں میں رام نومی اور وجے دشمی یعنی دسہرہ کا تہوار نہایت ہی جو ش و خروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ہندوں برادری اس دن کو بُرائی پر نیکی کی فتح قرار دیکر رام جی کی کامیابی سے تعبیر کرتے ہیں ۔اس دن جہاں نو دنوں کی فاقہ کشی کا اختتام ہو جاتا ہے، وہیں درگا پوجا کی اختتامی تقریب بھی منعقد کی جاتی ہے۔ملک میں اس دن راون کے پتلے جلائے جاتے ہیں، اس طرح ہر طرف جشن کا سماع ہو تا ہے۔

جہاں تک،پیغمبروں، اوتاروں ،ریشیوں ،منیوں اور سادھو سنتوں کا تعلق ہے، انہوں نے دنیا میں انسان کو اچھی تعلیم و تربیت کے گُر بھی سکھائے ہیں ۔انسان کو انسانیت کے حقیقی معنوں سے باخبر کیا،نیکی اور بدی کے درمیان فرق کرنا سکھایا ہے اور غلط اور صحیح کی تمیز کرنا بھی سکھایا،اچھائی اور بُرائی سے متعلق بنی نوح انسان کو باخبر کیا،حق و باطل میں فرق کرکے حق کا ساتھ دینے اور باطل کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کی ترغیب دی ہے، تاکہ آدم حقیقی انسان بن کر دنیا میں ہر ایک کی بہتری و بھلائی کے لئے کام کر سکیں، اس طرح شیطان کو ہر گز غالب نہ ہونے دیں جس کا کام دنیا میں فتنہ و فساد برپا کرنا ہے جو اس کو ہرگز پرامن طریقے سے رہنے نہیں دے گا کیونکہ اس شیطان کا کام انسانی معاشرے کا بگاڑنا اور انسانیت کا خاتمہ کرنا ہے ۔

لہٰذا وہ اس کے لئے ہر قسم کا حربہ آزماتا رہتا ہے چونکہ ہر انسان کے اندر شیطان بسا ہوا ہے جس کو مارنے کے لئے اللہ کے حکم کے مطابق پیغمبروں ،اوتاروں ،ریشیوں اور منیوں نے تعلیمات عطا کی ہیں اوران تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی اس شیطان کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے اور اس طرح اپنے نفس کو پابند کیا جاسکتا ہے ۔جس طرح مسلم برادری حج کے دوران منیٰ کے مقام ہر شیطان کے پتلے پر کنکریاں مار کر اس کو ہلاک کرنے کا عمل دہراتے ہیں ،اسی طرح ہندوں برادری بھی وجے دشمی کے دن راون کے پتلوں کو جلا کر حق و باطل کا فرق سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب تک ہندوں اور مسلمان یا دیگر مذاہب سے وابستہ لوگ یہ بات نہیں سمجھ پائیںگے کہ اُن کے اندر بسا ہواشیطان جو کہ ہر نفس کے اندر موجود ہوتا ہے، ماسوائے اُن نیک لوگوں کے جنہوں نے پیغمبروں،اوتاروں اور حقیقی مذہب سمجھنے والے بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کیا ہو یا عمل کرتے ہیں،جہاں تک موجودہ دور کا تعلق ہے ہر مذہب کے لوگ نفس پرست بن چکے ہیں وہ اپنے اندر کے شیطان کو مارنے کی بجائے باہر موجود نقلی شیطان کو رسمی طور آگ لگا کر یا پھر پتھر مار کر مارنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مذہب کا ہی سہارا لیکر مذہب کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔

انسان انسان کا خون بہا دیتا ہے ۔انسان انسان پر ظلم وزیادتی کر کے ایک دوسرے کا حق مارتا ہے، اس طرح اللہ یا بھگوان کو خوش کرنا چاہتا ہے، جو ہرگز ممکن نہیں ہے ۔لہٰذا ہم وطن پرستوں اور مذہب پرستوں کوان باتوں پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح ہم اپنے اس وطن کے ساتھ ساتھ پوری دنیا سے ظلم وزیادتی اور ناانصافی و بُرائی کا خاتمہ کر سکے، یہی ہمیں آج کا دن بھی سبق دیتا ہے کہ کس طرح رام جی نے انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی جانب لانے کی بھر پور کوشش کی جس پر آج پورا ملک جشن منارہا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.