جہلم کی پکار

جہلم کی پکار

آفات ِسماوی یعنی قدرتی آفت کا کوئی مقرہ وقت نہیں ہو تا ہے اور یہ آفت کسی بھی صورت میں آسکتی ہے ۔کبھی زلزلہ ،کبھی سیلاب اور کبھی اور کسی صورت میں یہ قدرتی آفت آسکتی ہے۔گذشتہ دنوں آسام میں بادل پھٹنے اور تغیانی آنے سے زبردست جانی و مالی نقصان ہو اہے۔ایک اطلاع کے مطابق فوج کے دودرجن جوان اس سیلاب میں لاپتہ ہوئے ہیں جبکہ درجنوں دیگرافراد انی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آفات سماوی کا جہاں تک تعلق ہے، اس کے لئے انسان خود ذمہ دار ہو تا ہے جس کسی ملک ،ریاست یا علاقے میں قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے گئی اُس ملک ،ریاست یا علاقے میں قدرتی آفت کسی نہ کسی صورت میں نازل ہو جاتی ہے ۔

اگر ہم اپنی واوی کی جانب ایک نظر ڈالیں تو یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہاں کے لوگوں نے قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی ماری ہے۔جنگلات کا صفایا کیا گیا،زرعی زمین کا خاتمہ کر کے بڑے بڑے محلات کھڑے کئے گئے ہیں۔ندی نالوں ، دریاﺅں اور جھیلوں کا خاتمہ کیا گیا اور اس طرح ماحولیاتی آلودگی کو پروان چڑھایا گیا ،قدرتی نظام کو تہس نہس کیا گیا، اس طرح آفات سماوی کو دعوت دی گئی۔اس کی سب سے بڑی مثال 2014کا سیلاب ہمارے سامنے ہے جس کی وجہ سے ساری وادی کھنہ بل سے کھادن یار تک تباہ کن سیلاب کی زد میں آگئی اس طرح اربوں روپے کا نقصان ہوگیا اور ابھی بھی کچھ لوگ اس نقصان کی بھر پائی نہیں کر پاتے ہیں۔اگر ہم دریائے جہلم کی جانب ایک نظر ڈالیں تو اس کی حالت ایک خشک نالہ کی مانند ہے۔

نوجوان دن بھر اس جہلم میں اُتر کر مچھلیاں پکڑتے نظر آرہے ہیں، جگہ جگہ اس جہلم میں مٹی او رریت کے ڈھیر دیکھائی دے رہے ہیں ۔انتظامیہ نے جہلم ریور فرنٹ پروجیکٹ کا منصوبہ ہاتھ میں لیا تھا لیکن وہ بھی پورا نہیں ہو سکا ۔جہاں تک جہلم کی دیکھ ریکھ ،صفائی اور گہرائی کا تعلق ہے اس پر زرکثیر خرچ کیا گیا لیکن اس کے باوجود اس اہم دریا کی حالت جو ں کی تو نظر آرہی ہے۔

دیکھا جائے تو پوری وادی جہلم کے کنارے آباد ہے، اگر چند دن بارش ہو جاتی ہے، تو جہلم میں پانی کی سطح اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میںبھی تشویش پھیل جاتی ہے کہ کہیں سیلاب کا سامنا پھر سے نہ کرنا پڑے۔ابھی موسم بھی خوشگوار ہے اور اس جہلم میں پانی کی سطح بھی بہتکم ہے، انتظامیہ کے لئے ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اس دریاسے یہ ریت اور مٹی باہر نکالیں کیونکہ سرکار کے پاس مشینری بھی ہے اور افرادی قوت بھی وہ چاہے تو دن رات اس ندی کی صفائی کر سکتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ جب سیلاب آئے تب انتظامیہ بیدار ہو جائیگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.