ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں جی ٹونٹی سے وابستہ ممالک کے سربراہان پہنچ گئے ہیں ۔ملک کی مختلف شخصیات نے ان سربراہان کا استقبال کیا اور وزیر اعظم شری نریندرا مودی نے ان سربراہان کورات کے کھانے پر بُلایا تھا اور اس موقعے پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ سیاسی لیڈران بھی موجود رہے جنہیں باضابطہ طور پر اس دعوت پر مدعو کیا گیا تھا۔یہ پہلا موقعہ ہے جب ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں اتنے سارے ممالک کے سربراہان ایک ساتھ دیکھنے کو ملے۔دراصل وزیر اعظم مودی کی جی ٹونٹی صدارت سنبھالنے کے بعد اس طرح کے اجلاس ہونا ایک لازمی عمل ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے عہدے کی بنا پر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن دیکھنا یہ کہ اس عمل سے ہمارے ملک کو کس قدر فائدہ ملے گا۔جہاں تک موجودہ مرکزی سرکار کا تعلق ہے ،نریندرا مودی کی سربراہی میں یہ سرکا ر عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے میں ہر سطح پر کامیاب ہو چکی ہے۔اس سربراہ اجلاس سے قبل برکس اور سارک اجلاسوں میں بھی ملک کی نمائندگی کررہے لیڈران نے ا پنی سوچ اور لا ئحہ عمل کو آگے بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ عالمی سطح پر ملک اپنا نقطہ نظر نہ صرف سامنے رکھنے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ ان نقاط پر عمل کروانے کے لئے پوری دنیا کو مجبور بھی کیاہے۔بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ حکمت عملی،بے روزگاری سے نمٹنے کےلئے معاشی اور اقتصادی ترقی کے لئے شراکت داری،سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں اتحادکو آگے بڑھانے کےلئے مختلف گوشوں کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا گیا جو واقعی دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت قرار دی جاسکتی ہے۔بھارت چونکہ دنیا کا ایک کثیر تعداد آبادی والا ملک ہے جو ہر ملک کے لئے ایک اہم تجارتی منڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے سبھی عالمی ممالک چھوٹے ہوں یا بڑے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کےخواہاں ہیں۔دنیا کے سبھی ممالک بھار ت کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ آگے بڑھانے کی خاطر بھارت کی ہرقسم کی تجویز پر اتفاق کرتے ہیں۔سبھی ممالک کے حکمرانوں کو بخوبی اس بات کا علم ہے کہ اب دنیامیں ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ اقتصادی جنگ کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے سبقت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھارت چونکہ ہر محاذپر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور سائنسی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کررہا ہے، اس لئے امریکہ ،برطانیہ ،روس ،جاپان ،ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک بھارت کے نیک مشوروں پر نہ صرف عمل پیرا ہو رہے ہیں بلکہ اس ملک کے ساتھ سیاسی و تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیںجس پر ملک کے عوام کو فخر حاصل ہے۔اب چونکہ جی ٹونٹی سربراہان کا اجلاس جاری ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ یہاں زیر بحث تمام امورات سے پوری دنیا کو آنے والے وقت میں فائدہ مل سکتا ہے ۔اُن تمام ممالک کے لئے یہ سربراہ اجلاس چشم کشاں ہے، جو ابھی بھی بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں لعت و لعل سے کام لے رہے ہیں،ایسے ممالک کی بھلائی و بہتری اسی میں ہے کہ اپنے عوام کو دھوکہ دیئے بغیر بھارت کی تیزتر ترقی تسلیم کریں اور اس ملک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر کے اپنا فائدہ حاحل کریں کیونکہ آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں بھارت سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنے گا اور دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے لئے پالیسی ساز ملک ہوگا۔




