سانس لینے کی جنگ !

سانس لینے کی جنگ !


شوکت ساحل

آج دنیا بھر میں جو سب سے اہم مسئلہ ہے ،وہ ہے ماحولیاتی آلودگی ! ماحولیاتی آلودگی نے انسانیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔

انسانیت کی بقا کے لئے اب کرہ ارض پر دنیا بھر کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ دنیا کو کیسا بچایا جاسکے اور بڑھتی ہوئی آلودگی پر کیسے قابو پایا جاسکے ۔

دنیا! اس میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں ،یہ ایک لمبی بحث ہے ،کیوں کہ نئی نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ابدی فنا کی طرف بڑھ رہی ہے

۔ویسے خالق کائنات نے اس جہاں کو بنا نے کے وقت ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اس کائنات کو ایک دن ختم ہونا ہے اور وہ دن دور نہیں ۔

دین اسلام میں اُس روز کو قیامت قرار دیا گیا ہے اور اہل ایمان کو اس پر مکمل ایمان ہے کہ قیامت آئے گی اور یہ کائنات مکمل طور پر تباہ ہو گی ۔

ایک دھماکے سے جس طرح دنیا وجود میں آئی ہے ،اُسی طرح ایک دھماکے میں یہ ختم بھی ہوجائے گی۔ تاہم اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ ہم تباہی کا سامان خود پیدا کریں ۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس جہاں میں ایک مقصد سے پیدا کیا ،اس میں انسانیت کی بقا کا فریضہ بھی ہے ۔ آج کی سانس لینا دشوار ہوگیا ہے اور سانس لینے کی جنگ جاری ہے ۔روس ۔یوکرین جنگ میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے ،عالمی وبا نے چہروں پر ماسک چڑھائے ،تو سانس لینا دوبر ہوگیا ۔

الغرض یہ کہ سانس لینے کی جنگ ہم سب لڑ رہے ہیں ۔اس جنگ میں ہم دنیاکی فضا کو آلودگی کے زہر سے بچا نے میں کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں اور اسکی شروعات گھر کے آنگن سے کی جاسکتی ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر سال 70لاکھ اموات ہوتی ہیں اوراس صورتِ حال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ معاملہ یہ ہے کہ جب آلودگی کی بات ہوتو ہم پورے شہر کی بات کرتے ہیں اور اپنے گھر کے ماحول کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

گھر میں فضائی آلودگی بعض اوقات شہر کی آلودگی سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔

خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں ،جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔ گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے مناسب راستوں کے نہ ہونے کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔

ا نڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آرسریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریبا کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتیں تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔

آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضر صحت اجزا کو صاف کرسکتے ہیں اور یہ گھر کے اند رکی فضا میں آلودگی ختم کرنے کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔پودوں کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین او رروغن سے نکلنے والے مضر صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ کو بھی جذب کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔

اگر بات کچن کی کی جائے تو آرسریش کے خیال میں باس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔

اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں، داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق انٹارکٹکا میں اس صدی کے آخر تک نصف سے زیادہ جانور اور پودے غائب ہو سکتے ہیں ۔

ایسے میں سوچ بدلنے سے ہی سانس لینے کی جنگ پر فتح حاصل کی جاسکتی ہے ۔کیوں کہ دنیا بدل رہی ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.