وادی میں برف وباراں کا ایک اور سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔پہاڑی علاقوں میں برف باری ہونے لگی ہے اور سردی بھی اب اپنا زور پکڑ رہی ہے ۔
جوان ،بزرگ اور بچے بھی اپنی اپنی ضرورت کے مطابق گرم ملبوسات پہن رہے ہیں لیکن اکثر بچے اور بچیاں سردی کے باوجود بھی کم کپڑے پہنتے ہیں ،دکھا جاتا ہے کہ زیادہ تربچے اور جوان ہلکے کپڑے پہننے ہوئے نظر آتے ہیں جب ان سے اسکی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ انہیں سردی نہیں لگتی ہے ۔
بہت سارے لوگ اس بات کو یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ پھر یہ جوان لڑکے لڑکیاں سردی کی وجہ سے کھانسی ،زکام اور بخار کے شکار کیوں ہوتے ہیں؟ ۔اصل میں کم کپڑے پہننے والے فیشن کو مایوس ہونے نہیں دیتے ہیں وہ جوانی کے دور میں ایک د وسرے کو اپنے زور دکھانے کی طاق میں ہوتے ہیں، اسی لئے کم کپڑے اور ننگے سر گھومتے رہتے ہیں ۔
ایسے ہزاروں بچے بعد میں یا تو بیمار ہو جاتے ہیں یا پھر گھر پہنچ کر والدین کو پریشان کر دیتے ہیں اور ایک بھی گھر یلو کام نہیں کرتے ہیں ۔صرف ٹانگوں اور سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں ،یہی حال اسکولی بچوں کا بھی ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے موسمی حالات کو سمجھےں ،سردی کا مقابلہ کرنے والے اُن بزرگوں کے طریقہ کار پر عمل کریں جو ایک زمانے میں بنا کسی گرمی کے انتظام کے زبردست سردیوں کا مقابلہ کرتے تھے۔
وہ اپنے ٹانگوں میں ایک خاص قسم کا کپڑا بانڈھ کر چلتے تھے اور سراور پاﺅں کو ہمیشہ ان سردیوں میں ڈانپ کر رکھتے تھے ۔لہٰذا وہ سردی سے پیدا ہو رہی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے تھے ۔
اُن کا کھانا پینا بھی مختلف ہوتا تھاور موجودہ سائنسی دور ان باتوں کو عملانے پر زور دیتا ہے اور اسکولوں ،کالجوں اور گھروں میں اسطرح کی تعلیمات دینے کی بے حد ضرورت ہے تاکہ ہماری صحت محفوظ رہ سکے اور دوران کام کاج بھی سردی کا بہ آسانی مقابلہ ہوسکے ۔





