
شوکت ساحل
بڑھتی مہنگائی کے عالم میں عام آدمی کافی زیادہ پریشان ہے ۔آمدنی اخراجات سے بہت ہم ہے ،ایسے میں مسائل ہی مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔
بے لگام مہنگائی کے اس دور میں صرف کفایت شعاری ہی ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے اور خاتون ِ خانہ کا اس حوالے سے اہم کلیدی رول بنتا ہے ۔

خاتون خانہ اگر کفایت شعار ہے تو مہنگائی اور کم آمدن میں بھی اچھا گزارہ ہو سکتا ہے اور اگر فضول خرچ ہے تو زیادہ آمدن میں بھی تنگی اور مفلسی کا رونا رہتا ہے۔
مرد کی ذمہ داری اگر مال کمانا ہے تو عورت کی ذمہ داری ہے کہ کفایت شعاری کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مال کو جائز طور پر صرف کرے۔
دولت کمانا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ملک میں دن بہ دن مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ کم آمدنی والوں کا گزارا نہایت مشکل ہو چکا ہے۔
ان حالات میں خاتونِ خانہ کا کام ہے کہ اپنی سلیقہ مندی اور منصوبہ بندی کے ذریعے محدود آمدنی میں گھر چلائے اور اہل خانہ کو بھی مہنگائی کی پریشانی سے بچائے۔
عموماً کچھ عادتیں ایسی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں جن کے باعث گھریلو بجٹ ڈولنے لگتا ہے۔ خاتون خانہ عقل مندی اور سلیقہ مندی سے اپنے آنگن کو نہ صرف آسودگی اور خوشحالی میں ڈھال سکتی ہیں بلکہ مہنگائی کے جن کو بھی قابو میں کر سکتی ہے۔بڑھتے اخراجات سے نمٹنے کے لیے بدلتی ترجیحات اور حکمت عملی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔
اسی لیے اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دیں۔اس سلسلے میں سب سے اہم اصول کفایت شعاری کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’قناعت اور کفایت شعاری معاشی مسائل کا نصف حل ہے۔‘اس نقطے کو ذہن میں رکھیں ۔
پورے مہینے کے لیے ملنے والا خرچ اخراجات سے کم ہو تو قطعی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ کوشش کریں کہ اس میں سے بیس فیصد حصہ نکال کر الگ کر لیں جو غیر متوقع ضرورت پڑنے پر مدد دے گا اور کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
شادی بیاہ، عزیز و اقارب کی کسی تقریب، دعوتوں، تحفے تحائف، مہمانوں کی آمد پر یا کسی اور ضرورت پر خرچ بھی کیا جاسکتا ہے۔
مہینے بھر کا خشک سوداسلف اکٹھا خرید لیں۔ یہ سودا بے تکی مقدار میں نہیں بلکہ صرف ضرورت کا درست اندازہ کرکے اس کے مطابق ہی خریدیں۔
خریداری کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں دام بھی مناسب ہوں اور معیار میں بھی بہتر ہو اور خریداری پر ڈسکاﺅنٹ بھی مل سکتا ہو۔ کپڑوں کی سلائی پر اکثر بے دریغ اور بے تحاشا پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔
کوشش کریں کہ کم از کم روز مرہ کے پہننے والے جوڑے کی سلائی کریں۔ درزی سے کپڑے سلوائے جائیں تو جتنے کا سوٹ ہوتا ہے اس قیمت کے قریب قریب ہی سلائی بھی بن جاتی ہے۔
سلائی سیکھنے کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، یوٹیوب پر استاد موجود ہے نا!۔کچن اخراجات کو کم کرنے کے لئے کچن گارڈن کی عادت کو بھی اپنائیں ۔مہنگائی کے اس خوفناک اور بڑھتے بے روزگاری میں اپنی سوچ کو بدلیں ،کیوں کہ دنیا بدل رہی ہے ۔





