ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

اختلاف ِ رائے کی گنجائش موجود لیکن۔۔

تحریر:شوکت ساحل

ہر کوئی شخص اپنی سوچ ،نظریہ اور رائے رکھتا ہے ۔ کسی بھی شخص کی رائے ،سوچ اور نظریہ سے اتفاق رکھنا ضروری نہیں لیکن احترام لازمی ہے اور جمہوری نظام میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔

اس لئے کہتے ہیں کہ انسان فطری طور پر مختلف المزاج ثابت ہوا ہے۔ قدرت نے اس میں ایک صلاحیت رکھی ہے جس کے ذریعے اپنی یا دوسروں کی بات میں مثبت و منفی رائے قائم کرنے اور اس کی توثیق و تردید کرنے کا بھرپور اختیار رکھتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ عین فطرت کے مطابق بھی ہے۔اس جہان رنگ و بو میں ہر قسم کی چیزیں موجود ہیں چھوٹی بڑی، خوب صورت، کوئی شوخ رنگ ہے تو کوئی مدھم، کسی میں طوالت ہے تو کسی میں پستی، الغرض ہر چیز مختلف ہے، لیکن ان مختلف النوع اشیاءمیں ایک قدر مشترک صفت اعتدال ہے جس کی بنا پر ہر چیز میں باوجود اختلاف کے ایک حسن موجود ہے جو اس کا امتیاز بھی ہے۔

اختلاف رائے انسان کا بنیادی، آئینی اور اس سے بڑھ کر فطری حق ہے اور دوسروں کی رائے کا احترام ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ تاہم اب اختلاف کو بھی جرم تصور کیا جاتا ہے ۔

حکومت کی تنقید یا منصوبہ بندی یا سازی پر اگر کوئی اختلاف کرے ،تو نتیجہ کچھ الگ ہی ہوتا ہے ۔اختلاف کرنے والے شخص کو ایک ایسے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے ،جہاں رائے ،سوچ اور نظریہ قید ہوتا ہے ۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اختلاف کے وقت ہم احترام اور سلیقے کی زبان کا گلا گھونٹ دیتے ہیں ۔اب تو صورت حال بہت زیادہ دگرگوں ہوگئی کہ جس کے جی میں آتا ہے، وہ بے باکی کے ساتھ رائے قائم کرنے لگتا ہے، بسا اوقات ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ اختلاف کرتے وقت بہت سے حضرات اس بات کا بھی ذرہ برابر لحاظ نہیں کرتے کہ جس سے اختلاف کیا جارہا ہے وہ ان کے استاد یا استاد کے استاد ہیں۔

بات اگر یہیں تک محدود ہوتی تو کوئی حرج نہ تھا، لیکن سوشل میڈیا کی رنگت نے ہمیں پست ِ سوچ بنا دیا ۔

گوگہ ملک میں آزادی رائے کے اظہار حق حاصل ہے ،لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی شخص کی پگڑی کو اچھالیں ۔

یہ بات بجا ہے کہ اختلاف ناگزیر ہے لیکن اس کے لیے کچھ اصول و شرائط ہیں جن کا پاس و لحاظ بھی ضروری ہے۔

اسی لئے ہمیں رائے قائم کرنے میں انتہائی محتاط انداز اختیار کرنا چاہیے ۔ اگر ہم محتاط انداز میں اپنی رائے رکھیں، ہماری اختلافی رائے سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پائے، اور اپنی رائے کو حتمی اور قطعی نہ جانتے ہوئے دوسرے کی رائے کو مہمل نہیں گردانیں، تو یقین جانیے بہت سے تنازعات کے ختم ہو جانے کا قوی امکان ہے اور باہمی احترام و رواداری کو فروغ ملنے کے ساتھ ایک صالح معاشرہ بھی وجود میں آ سکتا ۔

Popular Categories

spot_imgspot_img