کشمیر سے لداخ تک سایئکلنگ کرنے والے چار کشمیری نوجوان

کشمیر سے لداخ تک سایئکلنگ کرنے والے چار کشمیری نوجوان

سری نگر،20 جولائی: وادی کشمیر کے نوجوان کھیل کے مختلف شعبوں بشمول مارشل آرٹس میں ہی حصہ لے کر اپنا اور اپنے وطن کا نام روشن نہیں کر رہے ہیں بلکہ سایئکلنگ میں بھی دلچسپی لے کر دو دراز علاقوں کا سفر کرکے اپنے شوق کو پورا کرتے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ سایئکلنگ اور اس جیسے دوسرے کھیلوں میں حصہ لینا ذہنی طور صحت مند رہنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔
شمالی کشمیر کے کنزر علاقے سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں نے کشمیر سے لداخ تک سایئکلنگ کی اور 460 کلو میٹروں کی مسافت پانچ دنوں میں طے کی۔
ان نوجوانوں میں سے زاہد ہلال نامی ایک نوجوان نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ہم نے 13 جولائی کو اپنے ہی علاقے کنزر سے لداخ تک سایئکلنگ شروع کی۔
انہوں نے کہا: ’ہم اپنے ہی علاقے کے چار نوجوان ہیں میرے دیگر تین ساتھی سید جنید، دانش حمید شیخ اور عاشق احمد شیخ ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کنزر سے لداخ تک460 کلو میٹروں کی مسافت پانچ دنوں میں طے کی۔
موصوف نے کہا کہ پہلے دن ہم نے 120 کلو میٹر طے کئے اور ہم نے پہلی رات زوجیلا پر گذاری۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹینٹ کے علاوہ کھانے پینے کا ساز و سامان بھی اپنے ساتھ اٹھا رکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس قسم کی کھیلوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور ٹریکنگ وغیرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔
زاہد ہلال نے کہا کہ اس قسم کے کھیلوں کے ساتھ مصروف رہنا ذہنی طور صحت مند رہنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوان نشے کی لت میں پڑنے جیسی سماجی برائیوں سے بھی دور رہ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
موصوف نے کہا کہ موجودہ دور میں، جب بے روزگاری وغیرہ جیسے مسئلوں کے باعث نوجوان ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، نوجوانوں کو چاہئے کہ اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لیں۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.