فضول ضد اور پیسے کمانے والی مشین۔۔۔۔

فضول ضد اور پیسے کمانے والی مشین۔۔۔۔

تحریر:شوکت ساحل

ہر معاشرے میں خواتین کے حقوق کو اُجا گر کیا جاتا ہے ،تاہم مردوں کے حقوق کے حوالے سے کم ہی بات کی جاتی ہے ،کیوں کہ ہر سماج میں صنف نازک کو مجبور اور لاچار تصور کیا جاتا ہے ۔

مرد کا کام بنیادی ضروریات پورا کرنا ہے، اسے گھر کا نظام بھی چلانا ہوتا ہے اور خاندان کو اچھا’ لائف سٹائل ‘دینا ہوتا ہے۔

لیکن مردوں پر انکی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، ان کی قوت خرید سے مہنگی چیز ان سے نہ مانگیں۔

مردوں کا یہ فرض با لکل نہیں ہے کہ عورتوں کی لامحدود خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پیسے کمانے والی مشین بن جائیں۔

ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے اور دوسری عورتوں کا مقابلہ کرنے کے چکر میں اپنے مرد پر بوجھ نہ ڈالیں۔

انکا کام بنیادی ضروریات پورا کرنا ہے آپ کی مقابلہ بازی نہیں۔شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لیے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کردیا ہے۔

بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں ، جو کسی اور کے پاس نئے برانڈڈ کپڑے ، جیولری ، نئی گاڑی یا کوئی اور قیمتی شئے دیکھ کر فوراً ہی یہ سوچنے لگتی ہیں کہ انہیں بھی اسی طرح کی چیزیں چاہئیں۔

شادی شدہ خواتین جب اس سلسلے میں اپنے شوہر سے بات کرتی ہیں، تو وہ ایسے مواقع پر اکثر حسد میں مبتلا ئہوتی ہیں اور ضد کر کے خود بھی اسی خاتون کی طرح وہی چیز خریدنے کی خواہشمند ہوتی ہیں۔

خواتین کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ضروری نہیں کہ جو کپڑے اس خاتون پر جچ رہے ہیں وہ آپ پر بھی جچیں گے۔

فضول میں دوسروں کی چیزیں دیکھ کر ان سے حد کرنا اور ان چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے اپنے شوہر سے ضد کرنا سراسر بے وقوفی ہے۔

جب خواتین اس طرح کی فضول ضد اپنے شوہر سے کرتی ہیں، تو اکثر ان کے شوہر ٹال مٹول سے کام لینے لگتے ہیں ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اس طرح کی چیزیں آپ کی ضد کے چکر میں خرید کردیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب ان کی طرف سے انکار سننے کو ملتا ہے تو خواتین کی ان سے اکثر لڑائی ہوجاتی ہے ، گھر کا ماحول خراب ہوجاتا ہے اور بات چیت بند ہونے تک کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ان دنوں مہنگائی کی شرح مستقل بڑھ رہی ہے ، ایسے میں اگر آپ اپنے شوہر نامدار کے پاس جاکر اس سے یہ کہیں گی کہ مجھے سونے کا سیٹ چاہئے تو یقیناً ایک مخصوص تنخواہ کمانے والے شخص کیلئے ایک ماہ کی تنخواہ کے اندر گھر چلانا اور پھر آپ کیلئے سونے کا سیٹ یا اسی طرح کی اپ کی جانب سے کی گئی کسی دوسری خواہش کو پورا کرنا ناممکن ہوگا۔

خواتین کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ گھر کا سکون اور ان کا اپنا ذہنی سکون زیادہ قیمتی ہے ، دوسری خواتین سے حسد کر کے اور ان جیسی چیزیں خرید کر وہ تھوڑی دیر کی خوشی تو حاصل کرسکتی ہیں لیکن ذہنی سکون حاصل نہیں کرسکتیں ، لہٰذا اس طرح کی فضول ضد کر کے اپنا گھریلو ماحول خراب مت کیجئے جبکہمقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے ،جو فضول ضد اور تکرار میں ختم ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.