خانہ خرا ب

خانہ خرا ب

سنا ہے کہ آج کل شہر ودیہات میں قربانی کے جانور خریدنے میں لوگ زبردست محو ہیں اور اس خرید اری کی وجہ سے شہر ودیہات میں ٹریفک جام ہو رہا ہے اور عوام دن میں شدت کی گرمی کے دورا ن تارے گننے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔

بہرحال قربانی کے جانور خریدنا مسلم برادری کیلئے ایک دینی فرضیہ ہے مگر جن گھروں میں چولہا نہیں جل رہا ہے ،ایسے افراد پر ہمارے لوگوں کو کوئی نظر نہیںہے ۔

قربانی کا جہاں تک حقیقی فلسفے کا تعلق ہے وہ یہی ہے کہ انسان اپنی ذاتی خواہشات کا سرقلم کر کے خود کو کائنات بنانے والی ذات کے حکم کی تابیداری کرنے کا پابند بننا چاہیے مگر ایسا نظر نہیں آرہا ہے کوئی بھی شخص دوسرے انسان کی پریشانی اُٹھانے کیلئے تیار نہیں ہو رہا ہے۔

کوئی مرے یا جیئے ،کوئی کھائے یا بھوکا رہے ،اکثر لوگ ان باتوں کی جانب دھیان نہیں دیتے ہیں۔ ہاں اگر معاشرے وملت میں ایسے چند لوگ پائے بھی جاتے ہیں، انہیں اپنے اہل خانہ دوست یار اور رشتہ دار خانہ خراب کے نام سے پکارتے ہیں اور سوچتا ہوں پھر اچھا انسان کون ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.