خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

یہ پہلا موقع ہے جب مقامی لوگوں نے کھلے عام لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کو دبوچ کر پولیس کے حوالے کیا ۔اس اقدام سے پولیس کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں ۔

جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ طالب حسین کی گرفتاری یوٹی پولیس کیلئے ایک بہت بڑی کامیاب ہے اور سرحد پار بیٹھے ان کے اقاﺅ ں کواس واقعہ سے یہ کھلا پیغا م پہنچایا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ ہرگز آپ کے بہکاﺅے میں نہیں آسکتے ہیں ۔

پولیس سربراہ کے مطابق ملی ٹینٹ کمانڈ ر کے تار کہاں کہاں جڑے ہوئے ہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے ۔

ابتدائی خبروں کے مطابق مذکورہ ملی ٹینٹ کمانڈر حکمران جماعت سے وابستہ تھا جبکہ حکمران جماعت کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ملی ٹینٹ کمانڈر کو اُن کی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں ہے ۔

اِدھر پولیس سربراہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ ملی ٹینٹ کمانڈر میڈیا سے بھی وابستہ تھا ،انہوں نے صاف طور پر کہا کہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی غلط عنصر داخل ہو سکتا ہے لیکن پولیس محکمہ اس حوالے سے زبردست متحرک ہے اور اُن کے سامنے کوئی بھی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔

بہرحال پولیس کس طرح اپنے کام میں مصروف ہے یہ اُن کی ملی واخلاقی ذمہ داری ہے لیکن مرزا غالب کی غزل کا ایک شعر کا مصرہ ہے”خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک “ یعنی ایسے لوگوں نے اُس وقت تک معاشرے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا یا ہوتا ہے، جب تک خفیہ اداروں اور حفاظتی اداروں کو ایسے افراد کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے ۔

اس سے قبل بھی سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو برسوں بعد گرفتار کیا گیا اور بقول پولیس وہ ملی ٹینٹوں کیلئے ایک خصوصی پوٹل چلا رہا تھا جس میں اُسکے بچے اور کئی لوگ شامل تھے ۔

مذکورہ آفیسر کو اس عہدے تک پہنچانے والے کون لوگ تھے ؟یہ ایک اہم سوال ہے ۔صاف وعیاں ہوجاتا ہے کہ دشمن کسی بھی بھینس میں ہمارے صفوں میں شامل ہوسکتا ہے ،مگر ان صفوں میں کس طرح جانچ پڑتال اور نظر گزر رہے گی، اسکے لئے ایک حکمت عملی مرتب کرنی ہو گی ۔

خفیہ اداروں کے اوپر بھی ایسے خفیہ اداروں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے جس کا شاید ہمارے ملک میں ابھی کوئی تصور نہیں ہے ۔

جیسا کہ بتایا جاتا ہے کہ یورپی اور مغربی ممالک میں مختلف خفیہ ادارو ں پر نظر گزر رکھنے کیلئے ایسے ادارے بھی ہوتے ہیں، جن کے بار ے میں خفیہ اداروں سے وابستہ افسران ،سیاستدان اور دیگر اہم شخصیات تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔شاید اس یوٹی میں بھی اس طرح کے ادارو ں کی ضرورت ہے۔

تاکہ دشمن کے منصوبوں کو بہتر ڈھنگ سے ناکام بنایا جا سکے ،کیونکہ ایسے افراد کے بارے میں جب تک پولیس اور دیگر خفیہ اداروں کو پتہ چل جاتا ہے تب تک بہت زیادہ نقصان ہو جاتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.