تخلیقی ذہن :ریاضی پروفیسر نے بنائی پہلی سولر کار

تخلیقی ذہن :ریاضی پروفیسر نے بنائی پہلی سولر کار

کشمیری نوجوان نے 13برس کی سخت محنت اور تحقیق کے بعدکامیابی کیساتھ سنگ ِ میل طے کیا

صدف شبیر/ فہم متو

سرینگر: بڑھتی آلودگی ،موسمیاتی تبدیلی، پیٹرولیم مصنوعات کی بے لگام قیمتیں اور بے قابو مہنگائی کا حل فراہم کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے صنعت نگر علاقے سے تعلق رکھنے والے ریاضی کے پروفیسر ،بلال احمد نے ’ سولر کار ‘ یعنی شمسی توانائی پر چلنے والی پہلی گاڑی بنا کر نئی تاریخ رقم کی ۔


اپنی تخلیق اور اختراعی کار کے بارے میں بلال احمد کہتے ہیں’ میں نےسنہ 2009میں دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں ایک آرٹیکل پڑھا جس میں لکھاری نے آئندہ 20برسوں میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران پیدا ہونے کا ذکر کیا تھا ‘۔


ان کا کہناتھا ’آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ میں پیٹرول اور ڈیزل کار کوای وی یعنی الیکٹرک وہیکل میں تبدیل کروں ،میں نے(NISSAN MICRA) کار خریدی ،اُس کو ای وی کار تبدیل کیا ،کار میں’ آٹو میٹک سسٹم ‘ یعنی خود کار نظام ہونے کی وجہ سے مشکلات رہا ۔تاہم کامیابی ہاتھ آئی ‘۔
پروفیسر ،بلال احمد کہتے ہیں ’ پیٹرول کار کو الیکٹرک کار میں تبدیل کرنے کا منصوبہ کامیاب ہونے کے بعدمیں نے سوچا اس کار میں مفت توانائی شامل کروں اور شمسی توانائی واحد ایک ذریعہ ہے ،جس سے آپ مفت توانائی حاصل کرسکتے ہیں ‘۔


امریکی کارکمپنی (DMC DeLorean) سے متاثر

سیول انجینئر نگ کی ڈگری حاصل کرچکے پروفیسر،بلال احمد نے اپنی تخلیق شدہ سولر کار کے بارے میں مزید کہتے ہیں ’سولر کار تیار کرنے بعد میں نے سوچا کیوں نہ اس کو لگژری کار بناﺅں ،تاکہ دیکھنے والی آنکھ یہ کہے ،کاش میرے پاس بھی ایسی گاڑی ہو ‘۔

یوٹیوب میں سرفننگ کے دوران وہ امریکی کار کمپنی ”DMC DeLorean“ سے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنی کار کے در وازے اس کمپنی کی جانب سے 70کی دہائی میں بنائی گئی کار کی مانند اپنی کار کے دروازے بنانے کا فیصلہ اور کافی مشقت کے بعد کامیابی بھی حاصل کی ۔بلال احمد کو کار کےلئے درکار آلات اور پُرزے آن لائن چین اور دیگر ممالک سے خریدنے پڑے ۔

13برس کی طوقیل ترین کڑی اور سخت محنت کے بعد بلال احمد جموں وکشمیر کی پہلی سولر کار بنانے میں کامیاب ہوئے ،جو وقت کی اہم ضرورت بھی تصور کی جارہی ہے ۔سوشل میڈیا پر بلال احمد کی تخلیق کوکافی پذیر ائی مل رہی ہے اور لوگ مبارکبادی کے ساتھ ساتھ ضرورت کو ایجاد کی ماں قرار دے رہے ہیں ۔نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ مضمون جو کوئی پڑھیں لیکن علم زیادہ سے زیادہ حاصل کریں ،کیوں کہ علم ہی کامیابی کی کنجی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.