منگل, ستمبر 1, 2026
24.5 C
Srinagar

بہتر زراعی پیداوار ترقی کی ضمانت

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سال2022-23کیلئے پارلیمنٹ میں تفصیلی بجٹ پیش کیا اور اس بجٹ کی منظور ی کیلئے ملک کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں منتخب ممبران کے سامنے رکھا گیا ۔ملک کے مختلف سیاستدانوں ،پالیسی سازو ں اور صنعتی شخصیات نے اس بجٹ پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ۔تاہم ایک بات صاف اور واضح ہے کہ اس بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ ملک میں جاری ایگریکلچرل ترقی پر مرکوزکی گئی ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کی روح شعبہ ایگریکلچراور باغبانی ہے، جہاں سے نہ صرف ملک کے کروڑوں عوام کو روزی روٹی فراہم ہو رہی ہے بلکہ ان شعبوں کی بدولت دنیا کے بیشتر ممالک سے اچھی خاصی آمدنی بھی ہوتی ہے ۔وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ملک میں ایگریکلچر یونیورسٹیوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے ان کیلئے اچھی خاصی رقم مختص رکھی ہے ۔تاکہ کیمیائی کھادوں کو بغیر فضل بہتر ڈھنگ سے برآمد ہو سکے ۔اس بات سے یہ اخذ ہو رہا ہے کہ سرکار نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کیمیائی کھادوں سے انسانی صحت کو نہ صرف نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ان کھادوں اور مختلف ادویات سے ملک کے عوام میں مہلک بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیںجو کہ باعث تشویش ہے ۔یہاں یہ بات کہنا بے حد لازمی ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا زریعہ پھلوں ،فصلوں اور دیگر چیزوں کی بہتر پیداوار ہے ،مگر یہ تب ممکن ہے جب زرعی زمین ہمارے پاس موجود ہو ۔دیکھا جا رہا ہے کہ ملک کی زرعی زمین پر بڑی بڑی کالونیا ں ،فیکٹریاں اور بڑے بڑے شاپنگ مال تعمیر کئے جا رہے ہیں اورمحکمہ مال کے افسرا ن اس زرعی زمین کو بنجر قدیم ثابت کر کے اسکے لئے اچھی خاصی رشوت حاصل کر رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب زرعی زمین ہی ختم ہو جائے گی تو ملک کی ترقی اور خوشحالی کہاں ممکن ہو پائے گی؟ ۔سرکا رکو اس حوالے سے ملک بھر میں سخت اقدامات اُٹھانے ہونگے اور زرعی زمین کو بچانے کیلئے کارگر اقدامات اُٹھانے ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہو سکے اسطرح ملک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی ممکن بن سکے اور ملک کا کسان مالی اعتبا ر سے مستحکم بن سکے جو غربت وافلاس کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔

Popular Categories

spot_imgspot_img