سرینگر، یکم ستمبر: جموں و کشمیر بھر میں ایم بی بی ایس انٹرنز نے منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی اپنا احتجاج جاری رکھا اور حکومت سے ماہانہ انٹرن شپ وظیفہ بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔
انٹرنز نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف طبی اداروں میں پُرامن مظاہرے کیے اور وظیفے میں خاطر خواہ اضافے اور زیرِ التوا مطالبے کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔
صحت کی وزیر سکینہ ایتو کے اس بیان کے باوجود احتجاج جاری رہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انٹرنز کا مطالبہ جائز ہے اور وظیفے میں اضافے کی تجویز پہلے ہی تیار کرکے مالی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔
تاہم احتجاج کرنے والے انٹرنز کا کہنا ہے کہ بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آیا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک وظیفے میں حقیقتاً اضافہ نہیں کیا جاتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
انٹرنز کا مؤقف ہے کہ موجودہ وظیفہ ان کی انٹرن شپ کے دوران انجام دی جانے والی ذمہ داریوں، کام کے بوجھ اور فراہم کی جانے والی طبی خدمات کی مناسب عکاسی نہیں کرتا۔
احتجاج کے دوسرے روز انٹرنز نے پلے کارڈز اٹھائے اور اپنے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زیرِ التوا وظیفے میں اضافے کے معاملے پر مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
انٹرنز نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا احتجاج مریضوں یا طبی خدمات کے خلاف نہیں ہے، بلکہ ان کا مقصد انٹرن شپ کے دوران انجام دیے جانے والے کام کے عوض ایک منصفانہ اور باوقار وظیفہ حاصل کرنا ہے۔
— (کے این ٹی)




