سری نگر،: جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں ایم بی بی ایس تربیتی ڈاکٹروں نے پیر کے روز مشترکہ احتجاج شروع کر دیا اور اپنے ماہانہ انٹرن شپ وظیفے کو موجودہ 12,300 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کو دستیاب تفصیلات کے مطابق، کشمیر میں سری نگر، بارہمولہ، ہندوارہ، اننت ناگ اور ایس کے آئی ایم ایس بمنہ سمیت کئی گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں احتجاج کیا گیا، جبکہ جموں، ادھم پور، راجوری اور ڈوڈہ میں بھی تربیتی ڈاکٹروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔
احتجاج کرنے والے تربیتی ڈاکٹروں نے کہا کہ جب تک حکام کی جانب سے ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ معمول کی ڈیوٹی انجام دینے سے گریز کریں گے۔
ان کا کہنا تھا، ’’موجودہ وظیفہ ہماری طبی ذمہ داریوں، کام کے بوجھ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ناکافی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ انٹرن شپ کے دوران تربیتی ڈاکٹروں کو معمول کے مطابق ایمرجنسی شعبوں، وارڈز، آپریشن تھیٹرز اور آئی سی یوز میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں وہ لازمی انٹرن شپ کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال سے متعلق خدمات میں سینئر ڈاکٹروں کی معاونت کرتے ہیں۔
جی ایم سی سری نگر کے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے بھی احتجاج کرنے والے تربیتی ڈاکٹروں کی حمایت کی اور وظیفے میں نظرثانی کے ان کے مطالبے کو جائز قرار دیا۔
دریں اثنا، وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے ماہانہ وظیفہ 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کے مطالبے کا نوٹس لیا ہے اور یہ معاملہ اس وقت محکمہ خزانہ کے پاس زیرِ عمل ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ متعلقہ نمائندوں نے ان سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات کے بعد ان کی فائل پر کارروائی کرتے ہوئے اسے جائزے کے لیے محکمہ خزانہ کو بھیج دیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’ان کا مطالبہ جائز ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ غلط ہے، کیونکہ آج کل بہت زیادہ مہنگائی ہے۔ وظیفے میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ معزز وزیرِ اعلیٰ نے بھی یہی کہا ہے۔‘‘
وزیر نے کہا کہ حکومت اور محکمہ صحت پہلے ہی اس معاملے پر کام کر رہے ہیں اور جب ان کا مطالبہ پہلے ہی زیرِ غور ہے تو ملازمین کو ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ معاملہ پہلے ہی زیرِ عمل ہے۔ میرے خیال میں ہڑتال کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے۔‘‘
— کے این او




