تحریر: شوکت ساحل
پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اہلیان جموں وکشمیر کو بھی اس وقت کورونا بحران اور شدیدمہنگائی کے سبب مختلف مشکلات اور مسائل ومصائب کا سامنا ہے ۔گوکہ مرکزی حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آئندہ برس شرح نمو قریب قریب دس فیصد رہنے کا امکان ہے ۔گزشتہ روز یعنی پیر کے روز صدر ہند رام ناتھ کوند نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر مرکزی ہال میں مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کو دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشتوں میں سے ایک قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے کے مقصد سے 1.97 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے14 اہم پیداوار لنکڈ انسینٹو(پی ایل آئی) منصوبے شروع کئے گئے ہیں جس سے 60 لاکھ سے زیادہ روزگار کے موقع بھی پیدا ہوں گے ۔ادھر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے کہا کہ کورونا بحران کے باوجود زراعت کے شعبے میں سال2020-21میں3.6 فیصد اور2021-22میں3.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2021-22 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ زراعت کا شعبہ جو کہ 2021-22 میں ملک کے مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) کا18.8فیصد ہے، نے گزشتہ دو سالوں کے دوران حوصلہ افزا ترقی دکھائی ہے۔ یہ2020-21 میں 3.6 فیصد اور2021-22میں 3.9 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔مرکزی حکومت کے اعداد وشمار اپنی جگہ اور صحیح بھی ہوسکتے ہیں ،لیکن سوال ہے کہ عوام کو شدید ترین مہنگائی کا سامنا کیوں ہے ؟کورونا بحران کی وجہ سے ملک کے ہزاروں لوگ روزگار سے محروم ہوئے ہیں ۔اعداد وشمار آنکھوں کو چمک دینے کے لئے دلچسپ بھی ہیں اور قلب اطمینان کے مترادف بھی ہیں ۔لیکن آج کی دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور منظرنامے نے کرة ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ہر جگہ ہر کوئی اپنے اور اپنے خاندان کے ’سروائیول‘ یعنی بقاءکے بارے میں فکرمند اور پریشان نظر آتا ہے۔ ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے انسانی زندگی اور دنیا کی معیشت کو طرح طرح کی مصیبتوں میں ڈال رکھا ہے۔ ایک طرف لوگ کورونا وائرس کے ہاتھوں اپنی صحت اور زندگی کے بارے میں بے حد فکرمند اور پریشان ہیں تو دوسری طرف لاک ڈاو¿ن کے باعث پیدا ہونے والی مادی اور مالی مشکلات نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بے شمار لوگ صرف اپنی زندگیوں سے ہی نہیں بلکہ تیزی سے روزگار کے مواقعوں سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں۔ بیماری کے ساتھ ساتھ زندگی اور روزگار چھن جانے کا خوف تیزی سے ہمارے دماغوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔آج ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے لیے اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھنا اور ذہنی دباو¿ کو برداشت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسی پیچیدہ صورت حال میں ہم سب کی بقا اور سلامتی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے وجود کو درپیش خطرات اور اپنے روزگار کے معاملات کو لاحق چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے کتنے تیار ہیں؟ اللہ تعالیٰ پر ہمارے پختہ یقین اور بھروسے کے بعد ہماری بقا اور سلامتی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم دل اور دماغ کو منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہوگا اور موثر طریقہ ہائے کار اپنا نا ہوگا ۔حکومت کو بھی تیز ترین ترقی کی رفتار میں عوام لوگوں کو مہنگائی کی مار سے نجات دلانے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے چاہیے اورکورونا بحران سے نمٹنے کے لئے ویک اینڈ لاک ڈاﺅن کی بجائے ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے تاکہ ہم (یعنی عوام )معاشی بدحالی اور بیماری دونوں سے محفوظ رہ سکیں ۔





