رفیع آباد، 31 اگست: جموں و کشمیر کے وزیر اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما جاوید احمد ڈار نے پارٹی کے اندر اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں صرف ٹی آر پی کے لیے پھیلائی جا رہی افواہیں ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق، نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ڈار نے کہا کہ پارٹی کے اندر کسی قسم کی مایوسی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میڈیا کو قیاس آرائیوں اور افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کوئی بھی مایوس نہیں ہے۔ ہمارے لیڈر مضبوط ہیں اور ان کی ٹیم بھی مضبوط ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے لیا جانے والا ہر فیصلہ قبول کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے 2012 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آٹھ وزراء کو پارٹی امور کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے لیڈر جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہم نے یہ پہلے بھی 2012 میں دیکھا ہے۔ آٹھ وزراء کو پارٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے کہا گیا تھا اور جموں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کو چھوڑ کر باقی سب اب بھی پارٹی میں ہیں۔‘‘
جاوید ڈار نے نیشنل کانفرنس کو ایک ’’اعلیٰ اور نظم و ضبط والی جماعت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق تمام باتیں محض ٹی آر پی کے لیے پھیلائی جانے والی افواہیں اور قیاس آرائیاں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ صرف ٹی آر پی کے لیے افواہیں اور قیاس آرائیاں ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ پارٹی متحد ہے۔‘‘
سری نگر کے رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کے بیانات سے متعلق سوال پر وزیر نے کہا کہ ان کے آغا روح اللہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اور انہیں اپنا ساتھی اور بھائی قرار دیا۔
— کے این او





