اس شہر میں ہرکام کو انجام دینے میں دھیری کیوں ہورہی ہے ، کیوں یہاں کے لوگوں کو رونے پر مجبور کیاجارہا ہے ، بچوں کے امتحانات میں دھیری ، امتحانی نتائج میں دھیری ، ڈگریاں حاصل کرنے میں دھیری ، تعمیراتی منصوبوں کو عملانے میں دھیری ، بہترنظام بنانے میں دھیری ، مختلف سرکاری محکموں کو اسٹریم لائن کرنے میں دھیری ۔حیرانی اس بات پر ہورہی ہے کہ آخر یہ دھیری کیوں؟۔پہلے ایام میں اس دھیری کیلئے پُر تشدد حالات ، ہڑتال، کرفیو ، پتھراو اور احتجاج کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھالیکن گزشتہ 3برسوں سے یہاں کے حالات بالکل مختلف ہیں نہ ہڑتال ، نہ کرفیو اور نہ ہی احتجاج یا پُر تشدد واقعات دیکھنے کو نہیں مل رہے ہیںبلکہ ہرسوامن وسکون دیکھنے کو مل رہا ہے پھر بھی سرکاری محکموں میں کام کرنے میں دھیری کیوں ؟۔ کیو ں کشمیری عوام کو رونے کیلئے مجبور کیاجارہا ہے ۔ان باتوں پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا،مرکزی حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو غور کرنا چاہئے تاکہ مزید دھیری نہ ہو ۔





