اتوار, اگست ۳۱, ۲۰۲۵
24.2 C
Srinagar

یونیورسٹی حکام فیس میں رعایت کے وعدے سے مکر رہے ہیں: کشمیر یونیورسٹی طلبا کا الزام

ری نگر، 12 مارچ ;کشمیر یونیورسٹی کے طلبا کا الزام ہے کہ یونیورسٹی حکام ان سے آج صد فیصد سمسٹر فیس جمع کرنے کو کہتے ہیں جبکہ انہوں نے کووڈ کی وجہ سے اس میں پہلے پچاس فیصد رعایت کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم اب اپنے والدین سے مزید فیس مانگنے میں شرم محسوس کر رہے ہیں اور کئی طلاب ایسے ہیں جو اقتصادی بدحالی کے باعث فیس جمع کرنے سے قاصر ہیں۔
دریں اثنا جب یو این آئی اردو نے اس سلسلے میں کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا: ’ہم نے در اصل اس سلسلے میں گورنر صاحب کو بچوں کے مطالبے کو لے کر ایک مکتوب روانہ کیا تھا اور بچوں سے کہا تھا کہ فی الوقت وہ پچاس فیصد فیس ہی جمع کریں باقی بعد میں دیکھیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ابھی حکومت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے اور ہم پیر کے روز ایک میٹنگ میں اس مسئلے پر فیصلہ لیں گے۔
کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ پہلے ہم سے کہا گیا کہ پچاس فیصد سمسٹر فیس جمع کریں لیکن اب ہم سے کہا جا رہا ہے کہ فیس برابر ادا کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم اب اپنے والدین سے مزید فیس مانگنے میں شرم محسوس کر رہے ہیں کیونکہ پہلے ان سے ہم نے کہا کہ نصف فیس جمع کرنا ہے اب کس منہ سے مزید فیس مانگیں گے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی ایسے طلبا بھی ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے مزید فیس جمع کرنا مشکل ہے۔
ایک اور طالب علم نے بتایا کہ اگر فیس میں کوئی رعایت نہیں کرنی تھی تو متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں پہلے ہی طلبا کو واضح کرنا چاہئے تھے لیکن اب ایسا کہنا طلبا کے ساتھ مذاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزید فیس طلب کرنے سے کئی طلبا کی تعلیم متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کا یہ بھی الزام تھا کہ کشمیر یونیورسٹی ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے کافی زیادہ فیس وصول کرتی ہے جس سے غریب طلبا کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img