’ایک دن کا وقت دیں، ہماری بیٹیاں دوبارہ زندہ ہوجائیں گی‘

’ایک دن کا وقت دیں، ہماری بیٹیاں دوبارہ زندہ ہوجائیں گی‘

انڈیا میں والدین کے ہاتھوں بیٹیوں کا مبینہ قتل: ’ایک دن کا وقت دیں، ہماری بیٹیاں دوبارہ زندہ ہوجائیں گی‘

قتل ہونے والی لڑکیاں

انڈین ریاست آندھرا پردیش کے چتور ضلعے میں ٹیچر پرشوتم نائڈو اور ان کی اہلیہ نے مبینہ طور پر توہم پرستی کے سبب اپنی دو جوان بیٹیوں کو قتل کر دیا ہے جس کے بعد پولیس نے والدین کو حراست میں لے کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

اس معاملے میں متاثرہ لڑکی سائیں دویا کی سوشل میڈیا پوسٹ کو اہم ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سائیں دویا نے اپنی ہلاکت سے تین روز قبل سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ‘شِیو آ گئے ہیں، کام پورا ہوا۔‘پولیس کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے دویا کا برتاؤ عجیب سا ہو گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی پولیس کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ گذشتہ دنوں کچھ لوگ ان کے گھر آئے تھے۔ اس معاملے میں تفتیش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی ہے اور فوٹیج میں نظر آنے والے تمام افراد سے سوالات کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آخر معاملہ ہے کیا؟

چتور ضلعے کے دیہی علاقے مدنپلی میں رہنے والے پرشوتم پیشے سے خواتین کے سرکاری ڈگری کالج میں وائس پرنسپل ہیں۔ جبکہ ان کی اہلیہ پدمجا بھی پرنسپل کے طور پر کام کرتی ہیں اور ایک نجی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں۔

ان دونوں کی 22 اور 27 سالہ دو بیٹیاں تھیں جن کے نام الیکھیا اور سائیں دویا تھے۔

بڑی بیٹی الیکھیا نے بھوپال کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف فارین مینیجمینٹ سے ایم اے کی تعلیم مکمل کی تھی جبکہ چھوٹی بیٹی بی اے کرنے کے بعد اے آر رحمان میوزیک اکیڈمی سے موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

یہ خاندان گذشتہ برس اگست میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہوا تھا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ پرشوتم اور ان کا خاندان کئی قسم کی رسمیں ادا کیا کرتے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق، خاندان نے اتوار کی شب بھی ایسی ہی چند رسومات ادا کی تھیں، جس کے بعد والدین نے مبینہ طور پر اپنی چھوٹی بیٹی سائیں دویا کو نوکیلے ترشول سے اور بڑی بیٹی کو ایک ڈمبل سے مار کر قتل کر دیا۔

سوشل میڈیا

یہ خبر لڑکیوں کے والد نے خود پولیس سے رابطہ کر کے دی۔جب پولیس یہ خبر پا کر جائے وقوعہ پر پہنچی تب تک دونوں بیٹیاں ہلاک ہو چکی تھیں۔چھوتی بیٹی کی لاش پوجا کے مقام پر تھی اور بڑی کی لاش گھر کی پہلی منزل پر ملی۔پولیس نے دونوں والدین کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

گھر پر تفتیش

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی ذہنی حالت تشویشناک ہے۔ اس لیے ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان کو گھر پر ہی رکھا گیا ہے۔ملزمان نے متنبہ بھی کیا کہ ان پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔

ایسے میں پولیس کافی احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ تفتیش میں ماہر نفسیات کی مدد لینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔پولیس نے تفتیش کے دوران محض دو نزدیکی رشتہ داروں کو ہی گھر کے اندر جانے کی اجازت دی ہے، تاکہ ملزمان کو قابو میں رکھا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں عجیب و غریب تصاویر موصول ہوئی ہیں، جن میں چند تصاویر بھگوان کی ہیں۔دونوں متاثرین کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے اور تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ انھیں کچھ سراغ بھی ملے ہیں۔

قتل ہونے والی لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ

میڈیکل تفتیش

پولیس والدین کی میڈیکل جانچ کرانے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔مقامی ڈی ایس پی روی منوہر نے بتایا کہ ‘اس خاندان نے خود کو ایک مختلف سی سیاہ دنیا میں اُتار لیا ہے، جو روحانیت اور عقیدے سے کہیں آگے ہے۔

’انھیں لگتا ہے کہ روحانیت کے آگے بھی کچھ اور ہے۔ وہ اب تک کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایک دن کا وقت دیا جائے، ہمارے بچے زندہ ہو جائیں گے۔ انھیں یہیں رکھا جائے۔’

منوہر نے بتایا ‘یہ کافی تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ بچیوں کو ڈمبل سے مارا گیا ہے۔’والدین گذشتہ چند روز سے کسی کو بھی اپنے گھر آنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ انھوں نے کووڈ لاک ڈاؤن کے بعد سے اپنے ہاں کام کرنے والے نوکروں کو بھی گھر نہیں آنے دیا۔

’جب یہ ہلاکتیں ہوئیں اس وقت گھر میں صرف گھر کے افراد ہی موجود تھے۔‘منوہر نے بتایا کہ اس بات کے ثبوت بھی ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے واردات سے قبل باقائدہ کوئی رسومات ادا کی تھیں۔

’لیکن پوری بات پتا چلنے میں ابھی وقت لگے گا کیوںکہ ایسے معاملات کی تفتیش بھی آسان نہیں ہوتی ہے۔ ان کے صدمے سے باہر آتے ہی ہم تفتیش شروع کر دیں گے۔‘

خاندان سائیں بابا کو مانتا تھا

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ خاندان ’ذہنی طور پر بالکل درست لگتا تھا۔‘خاندان کے ایک نزدیکی رشتہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ خاندان شرڈی والے سائیں بابا (شری ستیا سائیں بابا) پر عقیدہ رکھتا تھا۔‘

شری ستیا سائیں بابا کون؟

’جو کچھ ہوا یہ کافی حیرانی کی بات ہے۔ وہ اس وقت رو رہے ہیں اور کسی سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔’

سرکاری ڈگری کالج میں بطور ڈرائیور کام کرنے والے سوریندر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ پرشوتم ایسا کر سکتے ہیں۔ میں انھیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔

’وہ ڈسپلن والے شخص ہیں۔ ان کا کسی سے کبھی کوئی جھگڑا نہیں رہا۔ مجھے لگتا ہے اس معاملے میں کسی رشتہ دار کا ہاتھ ہے تاکہ وہ ان کی جائیداد پر قبضہ کر سکیں۔ کسی نے انھیں قابو میں کر کے ایسا کام کروایا ہے، ورنہ ایسا ممکن نہیں تھا۔’

پرشوتم کے ہمسایوں کا بھی یہی خیال ہے۔ ایک شخص نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ‘کسی نے انھیں ٹرانس سٹیٹ میں پہنچایا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

’ان کا رویہ کافی اچھا تھا اور یہ تو لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ہمیں یقین نہیں ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیا۔ ہمیں ان لوگوں کی تلاش کرنی چاہیے جنھوں نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ انھیں ایسا کرنے کے لیے کیسے تیار کیا گیا۔‘

مقامی افراد کا خیال ہے کہ پدمجا کے پاس پانچ کروڑ روپے کی جائیداد ہے، اس لیے شاید قریبی رشتہ داروں نے یہ منصوبہ بنایا ہو۔

پولیس نے بتایا کہ سائیں دویا گذشتہ چند روز سے عجیب برتاؤ کا مظاہرہ کر رہی تھی اور دھمکی دیا کرتی تھی کہ وہ چھت سے کود جائے گی۔اس وجہ سے گھر والوں نے کوئی خاص رسم ادا کر کے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

”بشکریہ بی بی سی اردو”

Leave a Reply

Your email address will not be published.