نیشنل کانفرنس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کو پاکستان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آواز اٹھانی چاہیے؛ ہوٹلوں کی تعمیر میں اضافے کا دفاع کیا، خاندانوں کو مبینہ ہراساں کیے جانے کو سنگین مسئلہ قرار دیا
سرینگر، 29 جولائی: نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (پی اوجے کے) کے لوگوں سے متعلق مسائل کو اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی اس خطے کو بھارت کا اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے تو اسے وہاں ہونے والی پیش رفت پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بھی اس معاملے کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا:’اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے تو حکومت کو وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ میں نے اسے اس معاملے پر اپنی آواز بلند کرتے ہوئے نہیں سنا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو بھی وہاں کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کے خدشات دور ہونے تک مزید مؤثر مداخلت کی ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس بیان پر کہ جموں و کشمیر میں 5 ہزار سے زائد غیر قانونی ہوٹل قائم ہو چکے ہیں، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نجی رہائش گاہوں اور ہوٹلوں کے فروغ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کی روزگار کمانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا:’شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ ہوٹل قائم ہوئے ہیں۔ سیاح یہاں آتے ہیں، وہ کہاں قیام کریں گے؟ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب سیاحوں کو ٹیکسیوں، گاڑیوں اور حتیٰ کہ سڑکوں پر سونا پڑتا تھا۔ اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اب لوگ سرکاری نوکریوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں۔‘
دہلی میں طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائی سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ مختلف مقدمات میں نامزد افراد کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جسے انہوں نے ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا،:’خاندانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘
(کے این او)




