سری نگر، 14 ستمبر: سری نگر کے قلب میں واقع براری نمبل آبی ذخیرے کے ایک حصے میں مبینہ طور پر کی گئی لینڈ فلنگ، جسے اب گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، نے جھیل کے تحفظ اور اس کے حساس علاقوں کی نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
موقع سے سامنے آنے والی تصاویر میں آبی ذخیرے کے ایک خاصے حصے کو بھرا ہوا دکھایا گیا ہے، جہاں کئی گاڑیاں پارک کی گئی ہیں۔ یہ مقام جموں و کشمیر لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (LCMA) کے دفتر کے قریب واقع ہے، جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہ سرگرمی کیسے انجام پائی اور کیا لینڈ فلنگ کے دوران متعلقہ حکام کو اس کا علم ہوا یا نہیں۔
حکام کے سامنے فوری سوال یہ ہے کہ آیا بھرے گئے مٹیریل کو اب ہٹا کر متاثرہ حصے کو اس کی سابقہ حالت میں بحال کیا جائے گا۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ لینڈ فلنگ کس نے کی اور آیا اس کے لیے کسی قسم کی اجازت حاصل کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی تو انتظامیہ کو ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بھی براری نمبل میں مبینہ لینڈ فلنگ اور تجاوزات پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ انتظامیہ کی نگرانی میں یہ سرگرمی تقریباً دو ہفتوں تک کیسے جاری رہی اور مقام کی نگرانی کی ذمہ داری کس محکمے کی تھی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ LCMA براری نمبل میں بحالی اور تحفظ سے متعلق کام انجام دے رہی ہے۔ جولائی میں معائنے کے دوران اتھارٹی کے وائس چیئرمین نے تحفظ اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے آبی ذخیرے کی باقاعدہ نگرانی اور طویل مدتی تحفظ پر زور دیا تھا۔
اس سے قبل اگست میں بھی LCMA کے افسران نے براری نمبل کا معائنہ کیا تھا اور کناروں کی صفائی سمیت دیگر بحالی اقدامات کا جائزہ لیا تھا۔ اس موقع پر جڑی بوٹیوں، ٹھوس فضلے اور ملبے کو ہٹانے اور تحفظ سے متعلق کاموں میں تیزی لانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
تازہ صورتحال نے نہ صرف مبینہ طور پر تازہ لینڈ فلنگ بلکہ بحالی کے عمل سے گزرنے والے آبی ذخیرے کے اطراف نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سری نگر کے آبی ذخائر کی صورتحال سے واقف ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر نے کہا کہ اگر ایک طرف بحالی کا کام جاری ہو اور دوسری جانب آبی ذخیرے کو مزید بھرنے یا اس کی ساخت میں تبدیلی کی اجازت دی جائے تو بحالی کی کوششوں کا مقصد ہی بے معنی ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا، "پہلی ذمہ داری نئے نقصان کو روکنا ہے۔ اگر لینڈ فلنگ ہوئی ہے تو انتظامیہ کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ یہ کس نے کی، کیا اس کے لیے کوئی اجازت حاصل کی گئی تھی اور اس کے بعد کیا کارروائی کی گئی۔”
ماحولیاتی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ حصے کا سروے کرکے سرکاری ریکارڈ اور زمینی پیمائش کی مدد سے اس کی اصل حیثیت کا تعین کیا جانا چاہیے، اور اس وقت تک کسی مزید سرگرمی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
براری نمبل میں تجاوزات اور ماحولیاتی تنزلی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ نیشنل گرین ٹریبونل (NGT) نے آبی ذخیرے میں آلودگی اور تجاوزات سے متعلق کارروائی شروع کرتے ہوئے حکام سے تجاوزات کی حد، جھیل کی اراضی پر قائم اداروں اور مستقبل کے تحفظ کے منصوبے سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔
اب جبکہ براری نمبل میں بحالی کا کام پہلے ہی جاری ہے، لوگ انتظامیہ سے وضاحت چاہتے ہیں کہ آیا حال ہی میں بھرے گئے حصے کو صاف کرکے بحال کیا جائے گا، لینڈ فلنگ کی اجازت دی گئی تھی یا نہیں، اس کے ذمہ دار کون ہیں اور بروقت روک تھام کے لیے کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
مقامی لوگوں اور ماحولیاتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر آبی ذخیرے میں غیر مجاز لینڈ فلنگ ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کی نشاندہی، متاثرہ حصے کی بحالی اور مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
[کے این ٹی]





