سرینگر، 28 جولائی: نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ اور زڈی بل کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے منگل کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے حالیہ متنازع بیان پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے ’اپنے ہی ایم ایل اے کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہیں‘۔ انہوں نے محبوبہ مفتی سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے بلا شرط معافی مانگیں۔
تنویر صادق نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ محبوبہ مفتی نے پہلے اس تنازع کی ذمہ داری پی ڈی پی رہنما اور رکن اسمبلی وحید الرحمن پرا پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں خود ہی عوامی طور پر ان کی بات کی تردید کر دی۔
تنویر صادق نے لکھا،:’کتنی کمزور، خود غرض اور ناشکری قیادت ہے۔ آپ نے اپنے ہی ایم ایل اے وحید پرا کو اپنے بیان سے پیدا ہونے والے تنازع سے نکلنے کے لیے قربانی کا بکرا بنایا اور جب معاملہ قابو میں نہ آیا تو عوامی طور پر انہیں بھی شرمندہ کر دیا۔ لیکن پرا، آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کا یہ بیان بھی مصنوعی ذہانت (AI) کا بنایا ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے بیان میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا اور جموں و کشمیر کے عوام ان کے بیان پر شدید صدمے اور ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا،:’اس معاملے میں نہ کوئی ‘اگر’ ہے اور نہ ‘مگر’۔ جموں و کشمیر کے عوام آپ کے بیان سے سخت پریشان ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں واحد مناسب اقدام یہی ہے کہ آپ ہر اس کشمیری سے، جو آپ کے بیان سے دل آزردہ ہوا، خصوصاً پیلٹ متاثرین سے، واضح اور غیر مشروط معافی مانگیں۔”
تنویر صادق نے محبوبہ مفتی کے سابقہ "دودھ اور ٹافی” والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر بھی معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے لکھا، "اور جب آپ معافی مانگ ہی رہی ہیں تو اپنے ‘دودھ اور ٹافی’ والے بیان پر بھی معذرت کریں۔اگر آج کا بیان محض زبان پھسلنے کا نتیجہ تھا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرانے بیانات آپ کا اصل مؤقف تھے؟”
انہوں نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے ماضی کے اتحاد پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کو جموں و کشمیر میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے پر بھی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
تنویر صادق نے کہا، "آج آپ نے جو کچھ بھی کہا، وہ اصل مسئلے یعنی اپنے ابتدائی بیان سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں تھا۔”




