سری نگر، 29 جولائی: اکنامک آفینسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر، جو پہلے کرائم برانچ کشمیر کے نام سے جانا جاتا تھا، نے ایک طویل عرصے سے زیرِ سماعت بھرتی فراڈ کے مقدمے میں ملزم کو سزا دلوائی ہے۔ ملزم نے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے جعلی تعلیمی اسناد استعمال کی تھیں۔
جاری بیان کے مطابق اسپیشل موبائل مجسٹریٹ، 13ویں فنانس کمیشن/ریلوے مجسٹریٹ، سری نگر کی عدالت نے بونہ پورہ ترہگام کپوارہ کے رہائشی نذیر احمد ملک ولد عبدالعزیز ملک کو قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے ثابت پایا کہ اس نے جعلی(2+10) بارہویں جماعت کی تعلیمی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر انڈین ریزرو پولیس (آئی آر پی) کی 9ویں بٹالین میں کانسٹیبل کی ملازمت حاصل کی تھی۔
تحقیقات کے دوران جعلی سرٹیفکیٹ ضبط کرکے تصدیق کے لیے جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (جے کے بوس) کو بھیجا گیا، جہاں بورڈ نے تصدیق کی کہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے، جو مقدمے میں اہم ثبوت ثابت ہوا۔
مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کی دفعہ 420 کے تحت تین سال قیدِ با مشقت اور 1,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 15 دن کی سادہ قید بھگتنا ہوگی۔
عدالت نے ملزم کو جعلی دستاویز کو اصلی ظاہر کرکے استعمال کرنے کے جرم میں آر پی سی کی دفعہ 471 کے تحت دو سال سادہ قید کی سزا بھی سنائی۔ عدالت نے حکم دیا کہ دونوں سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔





