جموں، 22 جولائی: ضلع پونچھ کے سرنکوٹ میں بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے بعد لاپتہ ہونے والے آٹھ افراد کی تلاش کے لیے بدھ کے روز مسلسل چوتھے دن بھی بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری رہا، جبکہ جموں خطے کے مختلف اضلاع میں مسلسل بارش معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF)، پولیس اور مقامی رضاکار دریائے سورن کے کناروں پر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) سرنکوٹ فاروق خان نازکی نے بتایا کہ اتوار کو پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد لاپتہ ہونے والے 15 افراد میں سے اب تک 7 کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی 8 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ یا تو سیلابی ریلے میں بہہ گئے یا ملبے تلے دب گئے ہیں۔
یہ سانحہ دومیل گاؤں میں پیش آیا، جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور مکانات منہدم ہونے کے باعث کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ منگل کے روز جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں لورن کے اریگام میں سپرد خاک کیا گیا۔
دریں اثنا، مسلسل بارش کے باعث جموں خطے میں معمولات زندگی متاثر رہے۔ جموں۔پونچھ قومی شاہراہ مدانہ اور شینڈرا کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چار گھنٹے سے زائد وقت تک بند رہی، تاہم بعد ازاں ملبہ ہٹانے کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی۔ اسی طرح چندک۔منڈی روڈ بھی چکاترو کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی طور پر بند رہی، جسے بعد میں کھول دیا گیا۔
پونچھ ضلع میں فلیش فلڈ سے بجلی کے کھمبوں، ٹاورز اور دو ٹرانسفارمروں کو نقصان پہنچنے کے باعث مسلسل چوتھے روز بھی بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ اس کے علاوہ پونچھ شہر، منڈی، مینڈھر اور سرنکوٹ میں پینے کے پانی کی سپلائی بھی متاثر رہی۔
محکمہ بجلی (PDD) کے ایگزیکٹو انجینئر آفتاب احمد نے بتایا کہ بحالی کا کام جاری ہے اور بجلی کی فراہمی جلد بحال ہونے کی امید ہے۔
ادھر آرائی پیراں میں محمد الدین کا رہائشی مکان جزوی طور پر منہدم ہونے سے وہ زخمی ہو گئے۔ انہیں سب ڈسٹرکٹ اسپتال منڈی سے ضلع اسپتال پونچھ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔
تھنہ منڈی۔ڈی کے جی۔بفلیاز روڈ مسلسل چوتھے روز بھی بند رہی، جس کے باعث تاریخی مغل روڈ تک رسائی متاثر ہوئی اور پیر پنجال خطے میں مریضوں، طلبہ، تاجروں، سرکاری ملازمین اور ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کٹھوعہ ضلع میں مسلسل بارش کے باعث سہر کھڈ میں طغیانی آنے سے پرانی سامبہ۔کٹھوعہ سڑک کا ایک حصہ بہہ گیا، جبکہ شیرپور گاؤں کو ملانے والی رابطہ سڑک بھی متاثر ہوئی، جس سے تقریباً 15 سے 20 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ مقامی لوگوں نے متبادل راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر سے دور رہیں اور خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
اودھم پور ضلع کے لٹی، ڈوڈو، جاکھیڈ، پنچونٹ اور ملحقہ دیہات میں بجلی کا نظام بارش سے متاثر ہونے کے باعث بند رہا، جبکہ بحالی کا کام جاری ہے۔
اسی دوران بلاور کے علاقے میں بھنی ندی میں پھنسے دو افراد کو پولیس اور ایس ڈی آر ایف نے بحفاظت بچا لیا۔ بانی میں ایک دور افتادہ ڈھوک پر بارش سے متعلق ایک حادثے میں درمیانی عمر کی ایک خاتون کی موت کی اطلاع بھی ملی ہے، تاہم مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
شدید بارش کے باعث ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع کی کئی سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔ گائی۔ڈیسا روڈ مسلسل دوسرے روز بند رہی، جبکہ بٹوٹ۔ڈوڈہ۔بھدرواہ اور کشتواڑ جانے والی سڑکیں ٹریفک کے لیے کھلی رہیں۔
حکام نے دریائے چناب، تاوی، بسنتر اور اوجھ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔ بدھ کی صبح اکھنور کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح تقریباً 30 فٹ تک پہنچ گئی تھی اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دریا کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔





