پیر, جون 15, 2026
26.4 C
Srinagar

امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی: پاکستان کا اعلان 

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایکس پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا ’طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا۔’معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔‘انہوں نے تنازعے کے سفارتی حل کے عزم کا اظہار کرنے پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ثالثی کے عمل میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے تک پہنچنے میں قطر کی قیادت نے اہم معاونت فراہم کی۔

انہوں نے سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے امن کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے بعد ثالث ممالک اس ہفتے متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گے۔ ان ابتدائی مذاکرات کے ذریعے تکنیکی بات چیت اور معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مبارک باد دیتے ہوئے معاہدے کی تصدیق کی۔’سب کو مبارک ہو!‘ تاہم انہوں نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹرمپ نے لکھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔انہوں نے مزید کہا ’دنیا کے جہازو، اپنے انجن اسٹارٹ کرو۔ تیل کو بہنے دو!‘

تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ طویل مذاکراتی عمل میں پاکستان اور قطر کی ثالثی شامل رہی اور گذشتہ روز قطری وفد ایران آیا جہاں تقریباً 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آخری نکات اور مطالبات کو متن میں شامل نہیں کیا گیا، اس وقت تک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ مذاکرات ایک گھنٹے قبل تک جاری رہے۔

ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن تیار ہو چکا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں فریقین کے درمیان ہوں گے۔

غریب آبادی نے کہا کہ دو فوری پیش رفتیں متوقع ہیں: پہلی یہ کہ مختلف محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ہو گا، جس میں لبنان بھی شامل ہے اور یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم کے متن میں بھی شامل تھی۔

دوسری پیش رفت بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق ہے جس کا اعتراف امریکی صدر نے بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی ذمہ داریاں اس معاہدے کے باضابطہ دستخط کے بعد جمعے سے شروع ہوں گی۔

نائب وزیر خارجہ کے مطابق یہ مفاہمت صرف سفارتی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ’شہدا کے خون، فوجی قوت کے اقدامات اور عوام کی حمایت کا بھی نتیجہ ہے۔‘

’جلد عوام کو اس مفاہمتی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘انہوں نے کہا معاہدے کے مسودے میں ایران کے تمام اہم مؤقف شامل کیے گئے ہیں اور دستخط کے بعد متن شائع کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں کشیدگی اور مسلح افواج کے بیانات نے مذاکراتی پیش رفت کو آسان بنایا۔ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کسی بھی وقت فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ مذاکرات کا آغاز اس وقت ہوگا جب امریکی ذمہ داریوں کی تصدیق ہو جائے گی، جن میں جنگ کا خاتمہ، ناکہ بندی کا خاتمہ اور اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

غریب آبادی کے مطابق 60 روزہ مذاکرات میں بنیادی موضوعات میں تمام پابندیوں کا خاتمہ، جوہری مسئلہ، اقتصادی بحالی اور عمل درآمد کے نگرانی کے طریقہ کار کی تشکیل شامل ہو گی۔

Popular Categories

spot_imgspot_img