وادی کشمیر اپنی تہذیبی، ادبی اور ثقافتی شناخت کے حوالے سے ہمیشہ ایک منفرد مقام رکھتی آئی ہے۔ سرینگر کے ٹائیگور ہال،جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لیگویجزاور دیگر ثقافتی مراکز میں آئے روز مختلف نوعیت کی کتابوں کی رسمِ رونمائی انجام دی جاتی ہے۔ ان تقریبات میں ادیب، شاعر، قلمکار، دانشور اور علمی شخصیات شریک ہوکر ادب، زبان اور تہذیب پر گفتگو کرتے ہیں۔ کشمیری اور اردو ادب کے روشن پہلوئوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور علمی ماحول پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ تمام سرگرمیاں خوش آئند محسوس ہوتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف کتابوں کی رونمائی سے نئی نسل کو ادب، زبان، تاریخ اور اسلاف کی فکری میراث سے جوڑا جاسکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ محدود نوعیت کی تقریبات، چند مخصوص چہروں کی موجودگی اور کانفرنس ہالز تک محدود علمی گفتگو معاشرے میں مطالعے کی سنجیدہ روایت پیدا نہیں کرسکتی۔ اگر ان تقاریب کا اثر صرف تصویروں، خبروں اور رسمی بیانات تک محدود رہے تو پھر ان کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ایک بالکل مختلف دنیا میں سانس لے رہی ہے؛ اس کی توجہ کتابوں کی الماریوں سے زیادہ موبائل اسکرینوں پر مرکوز ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مختصر ویڈیوز نے معلومات کے حصول کا انداز بدل دیا ہے۔ ایسے میں اگر ادب کو صرف ہالوں اور سیمیناروں تک محدود رکھا جائے تو یہ دانشمندی نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔
ادیبوں، قلمکاروں اور دانشوروں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نئی نسل تک پہنچنے کے ذرائع تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب صرف کتاب چھاپ دینا کافی نہیں بلکہ اس مواد کو ڈیجیٹل شکل میں نوجوانوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اردو اور کشمیری ادب کو ای بکس، آڈیو بکس، پوڈکاسٹس، مختصر ادبی ویڈیوز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے نوجوان ذہنوں تک لے جانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر نوجوان زیادہ وقت ڈیجیٹل دنیا میں گزارتے ہیں تو ادب کو بھی اسی دنیا میں داخل ہونا ہوگا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بیشتر ادبی ادارے اب بھی روایتی طریقوں سے باہر نکلنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادبی سرگرمیوں کو ثقافتی ہالز سے نکال کر اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں تک لے جایا جائے۔ خاص طور پر پرائمری سطح سے بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ اگر ایک بچہ ابتدائی عمر میں کتاب سے دوستی کرلے تو وہ زندگی بھر علم اور فکر سے جڑا رہتا ہے۔
دنیا بھر میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے کتابی میلے منعقد ہوتے ہیں جہاں نوجوانوں کو ادب، تاریخ، سائنس اور تہذیب سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کی جاتی ہے۔ مگر جموں و کشمیر میں آج تک ریاستی سطح پر ایسا کوئی جامع اور سالانہ کتاب میلہ مستقل بنیادوں پر منعقد نہیں ہوسکا جو نوجوان نسل کو اپنی زبان، تاریخ اور ادبی ورثے سے قریب لا سکے۔ حکومت، سول سوسائٹی، دانشوروں اور ادبی حلقوں کو اب روایتی دائرے سے باہر نکل کر سوچنا ہوگا۔ محض تقاریر سے نہیں بلکہ عملی منصوبہ بندی سے مطالعے کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی، ادیب، قلمکار، ناشرین اور نوجوان ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ حکومت کو لائبریریوں کی حالت بہتر بنانے، دیہی علاقوں تک کتابوں کی رسائی آسان بنانے اور ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح ادیبوں کو بھی نوجوان نسل کی نفسیات اور جدید ذرائع ابلاغ کو سمجھنا ہوگا۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ کتاب لکھنا آسان کام نہیں۔ الفاظ کو سوچ، احساس اور شعور کی لڑی میں پرو دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب محض کاغذ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور فکر کا سرمایہ ہوتی ہے۔ مگر اس سرمائے کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے نئی نسل کی دسترس تک پہنچایا جائے۔ ورنہ کتابوں کی رونمائی تو ہوتی رہے گی، مگر قاری کم ہوتے جائیں گے۔





