ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی تین روزہ کانفرنس کا سرینگر میں آغاز

کشمیر کی تاریخ، کشمیریت، ریشی فلسفے،صوفی روایت اور ادبی ہم آہنگی پر مفصل تبادلۂ خیال

شوکت ساحل

سرینگر، 15 مئی:کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی جانب سے سرینگر کے ہوٹل نہروس میں تین روزہ کانفرنس بعنوان “Travelling Museum & Cultural Festival” کا جمعہ کو باضابطہ آغاز ہوا، جس میں کشمیر کی قدیم تاریخ، کشمیریت، ریشی فلسفہ، صوفی روایت، کشمیری ادب، زبان، تہذیب اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں جموں و کشمیر، ملک کی مختلف ریاستوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیری دانشوروں، مؤرخین، ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب تین مختلف سیشنز پر مشتمل تھی، جن میں کشمیر کی تہذیبی شناخت، کشمیری پنڈتوں اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان صدیوں پر محیط بھائی چارے، رواداری اور مشترکہ ثقافتی ورثے پر خصوصی طور پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے کہا کہ کشمیر کی اصل روح اس کی صوفی و ریشی روایت میں پوشیدہ ہے، جسے لل دید اور عالم دارِ کشمیر حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ نے اپنے افکار اور تعلیمات سے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

کانفرنس کا افتتاح وادیٔ کشمیر کے معروف مؤرخ ڈاکٹر عبدالاحد نے کیا، جبکہ مختلف علمی و ادبی موضوعات پر پروفیسر فاروق فیاض، ڈاکٹر رتن لال ہانگلو، پروفیسر عبدالرشید لون، ڈاکٹر ہارون رشید،، ایم ایچ ظفر، پروفیسر نیرجا مٹو، اشوک دُلو، مقبول ساجد اور دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی نائب صدر رنجن نہرو نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد اور اس کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تہذیبی اور ثقافتی میراث صرف ماضی کا سرمایہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی شناخت بھی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو اپنی تاریخ، زبان، ادب اور تہذیب سے جوڑا جائے۔

افتتاحی سیشن میں ڈاکٹر رتن لال ہانگلو نے “Kasheer and We Kashmiris” کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریت دراصل مختلف تہذیبوں، عقائد اور انسانی اقدار کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہمیں باہمی احترام، برداشت اور انسان دوستی کا درس دیتی ہے۔

اس موقع پر پراجاکتا بھوگلے کی کشمیر کی تاریخ سے متعلق دستاویزی فلم “Virtual Walkthrough” کی اسکریننگ بھی کی گئی، جس میں کشمیر کی قدیم تہذیب، تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا۔

دوسرے سیشن میں “Sources of Mysticism & Kashmir Shaivism” کے موضوع پر ڈاکٹر ہارون رشید نے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں صوفی ازم اور شیو مت کے باہمی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی روحانی روایت نے ہمیشہ انسانیت، محبت اور بقائے باہمی کا پیغام دیا ہے۔

اسی سیشن میں پروفیسر عبدالرشید لون نے “Sources of Ancient History of Kashmir” کے عنوان سے پرزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کشمیر کی قدیم تاریخ، تہذیبی ارتقاء اور تاریخی ماخذات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برسوں پر محیط ایک عظیم تہذیبی داستان ہے، جسے نئی نسل تک صحیح تناظر میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر نیرجا مٹو نے “Songs of Liberation — Mystic & Lyric” کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لل دید کی شاعری، صوفی فکر اور کشمیری روحانیت کو اپنی گفتگو کا مرکز بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لل دید کی تعلیمات آج بھی انسانیت، محبت اور روحانی آزادی کا درس دیتی ہیں۔ پروفیسر نیرجا مٹو نے دوسرے سیشن کی صدارت بھی کی اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیر کی ادبی و صوفی روایت نے ہمیشہ انسانوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔

کانفرنس کے دوران کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کے بورڈ ممبر جی آر حسرت گڈا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کی تاریخ کو اس کی جڑوں سے تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریشی فلسفے میں کشمیر کی اصل روح اور انسان دوستی کا پیغام پوشیدہ ہے۔

تیسرے سیشن میں اشوک دُلو نے اپنی کتاب “Lol” پر روشنی ڈالتے ہوئے کشمیری شاعری، صوفی روایت اور فکری آزادی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

ادیب و قلمکار مقبول ساجد نے کشمیری ادب میں خواتین کے کردار، ان کی ذاتی زندگیوں، شاعری، افسانہ نگاری اور ڈرامہ نگاری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین ادیبوں نے ادب اور تہذیب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

معروف کشمیری شاعرہ اور ادبی شخصیت نسیم شفاعی نے تیسرے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ادب انسانوں کو تقسیم نہیں کرتا بلکہ ادب ہی دلوں کو جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادبی تقسیم سے گریز کرتے ہوئے ہمیں مشترکہ ادبی اور تہذیبی شناخت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ نئی نسل کو کشمیر کی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافت سے جوڑا جا سکے۔

آخر میں کشیر ہسٹری فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر سنندا گنجو نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، جبکہ افتتاحی تقریب کی نظامت سینئر صحافی اور قلمکار رشید راہل نے انجام دی۔

پہلے روز کانفرنس کے موقع پر “Kashmir Through Its Artists” کے عنوان سے ایک خصوصی آرٹ نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں کشمیری فنکاروں کی تخلیقات کو پیش کیا گیا۔ نمائش میں کشمیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی یادداشت، فنونِ لطیفہ، ثقافتی اظہار اور تاریخی ورثے کو مصوری اور مختلف فن پاروں کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق یہ نمائش کشمیر کی خوبصورتی، ثقافتی شناخت، مزاحمتی روح اور تہذیبی تسلسل کی عکاس ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img