ہفتہ, جولائی 18, 2026
23.8 C
Srinagar

دہلی میں گینگ ریپ: وقت پوچھنے پرخاتون کو چلتی بس کے اندر کھینچ لیا، دو گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

نئی دہلی،:  ایک ہولناک واقعے نے قومی دارالحکومت کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کی دیر رات دہلی کے رانی باغ علاقے میں ایک چلتی سلیپر بس کے اندر 30 سالہ خاتون کو اغوا کرکے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی بس کو ضبط کر لیا ہے اور متاثرہ خاتون کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

متاثرہ خاتون پریتم پورہ کی ایک جھگی بستی کی رہائشی ہے اور منگول پوری کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ رات کی شفٹ ختم کرنے کے بعد وہ گھر جا رہی تھی جب وہ سرستوی وہار کے بی بلاک بس اسٹینڈ پر پہنچی، وہاں ایک سلیپر بس کھڑی تھی۔ جب اس نے بس کے دروازے پر کھڑے ایک نوجوان سے وقت پوچھا تو ملزمان نے جواب دینے کے بجائے اسے زبردستی بس کے اندر کھینچ لیا۔

متاثرہ کے مطابق، جیسے ہی اسے بس میں گھسیٹا گیا، ملزمان نے دروازہ بند کر دیا اور ڈرائیور کو بس چلانے کے لئے کہا۔ چلتی بس کے اندر دو افراد نے اس کے ساتھ بار بار زیادتی کی۔ یہ افسوسناک واقعہ تقریباً 7 کلومیٹر تک ناگلوئی میٹرو اسٹیشن تک جاری رہا۔ تقریباً دو گھنٹے تک جنسی تشدد کرنے کے بعد ملزمان نے اسے رات تقریباً 2 بجے خون میں لت پت حالت میں سڑک پر پھینک دیا اور فرار ہو گئے۔

حملے کے فوراً بعد متاثرہ نے پولیس کو فون کیا۔ پہلی کال نانگلوئی پولیس اسٹیشن کو گئی، لیکن چونکہ جرم کی جگہ رانی باغ پولیس اسٹیشن کے تحٹ آتا تھا، اس لئے معاملہ وہاں منتقل کر دیا گیا۔ ایک خاتون سب انسپکٹر متاثرہ کو بابا ساحب امبیڈکر اسپتال لے گئی، جہاں طبی معائنے میں اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوئی۔

ڈاکٹروں نے متاثرہ کی نازک حالت کے پیش نظر اسے اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے شوہر کو ٹی بی ہے اور وہ گھر پر ہی رہتے ہیں۔ اس جوڑے کی تین بیٹیاں ہیں جن کی عمریں 8، 6 اور 4 سال ہیں۔ بچوں کی کفالت کی فکر کے باعث اس نے شدید زخمی ہونے کے باوجود گھر پر ہی علاج کروانے کا فیصلہ کیا۔

پولیس نے بہار رجسٹریشن نمبر والی بس کو ضبط کر لیا ہے۔ بس کے مالک سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور ڈرائیور سمیت دو مرکزی ملزمان کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔ ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد گرفتاری کی امید ہے۔ بس کے روٹ اور ملزمان کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لیے علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس افسر نے تصدیق کی کہ بس کے اندر پردے لگے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے باہر سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ بس سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے فارنزک ٹیم کو طلب کیا گیا ہے۔ بس ضبط کر لی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img