سری نگر، 11 مئی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں سے متعلق اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ریمارکس کو سیاسی مخالفین سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہے ہیں، اور اس معاملے پر ان کے مؤقف میں “کوئی ابہام نہیں” ہے۔
اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں شراب کی دکانیں خاص طور پر اُن افراد کے لیے ہیں جن کے مذہبی عقائد شراب نوشی کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں کسی بھی حکومت نے کبھی ایسی دکانوں پر مکمل پابندی عائد نہیں کی۔
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت شراب نوشی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ جن لوگوں کے مذہبی اصول شراب کے استعمال یا نوشی کی اجازت دیتے ہیں، وہ ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کا اپنا مذہب شراب کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اس کے فروغ کا کوئی ارادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے کچھ اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں کوئی نئی شراب کی دکان نہ کھولنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ موجودہ دکانیں ایسی جگہوں پر نہ ہوں جہاں وہ نوجوانوں پر منفی اثر ڈال سکیں یا نقصان دہ رویوں کو فروغ دیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے بیانات اکثر سڑک کنارے میڈیا سے مختصر گفتگو کے دوران دیے جاتے ہیں، جہاں وقت کی کمی کے باعث مکمل وضاحت ممکن نہیں ہوتی اور بعد میں ان بیانات کو ناقدین کی جانب سے “غلط انداز میں پیش” کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اس بیان کو “اپنی ماضی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے” کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مؤقف ماضی کی سرکاری بحثوں اور اسمبلی میں ہونے والی گفتگو میں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔
اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پالیسی کے تناظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔





