سری نگر، 6 مئی:محکمہ اینمل ہسبنڈری نے کشمیر میں بین الاقوامی سطح پر مشہور سوئس نسل کی بکری “سانین” (Saanen) جسے عام طور پر “ملکئہ دودھ” یا “Milk Queen” بھی کہا جاتا ہے، ایک خصوصی اقدام کے تحت متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد خطے کے ڈیری اور لائیو اسٹاک شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔
حکام کے مطابق یہ بکری اپنی غیر معمولی دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت، مضبوط جسمانی ساخت اور منظم ڈیری فارمنگ کے لیے بہترین موافقت کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔
اس نسل کی شمولیت سے مقامی کسانوں کو دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور آمدنی کے بہتر مواقع میسر آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
محکمہ اینمل ہسبنڈری کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے کشمیر نیوز ٹرسٹ کو بتایا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر میں حیوانات کے شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر ترقی دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت زیادہ پیداوار دینے والی اعلیٰ نسلوں کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔
سانین بکری کی خاص پہچان اس کا سفید رنگ، پرسکون مزاج اور اعلیٰ دودھ دینے کی صلاحیت ہے۔ یہ نسل تجارتی سطح پر دنیا کے کئی ممالک میں کامیاب ڈیری فارمنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
عہدیدار کے مطابق منتخب کسانوں اور لائیو اسٹاک یونٹس کو اس نئی نسل کی افزائش، خوراک اور بہتر نگہداشت سے متعلق خصوصی تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
محکمہ کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے کشمیر میں ڈیری وسائل کو متنوع بنانے، دودھ کی پیداوار بڑھانے اور دیہی علاقوں میں سائنسی بکری پالنے کے رجحان کو فروغ ملے گا۔
اس پیش رفت کے بعد مقامی کسانوں اور ڈیری کاروبار سے وابستہ افراد میں خاصی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بکری پالنا روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔





