لکھنؤ،: اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے دوران ایک بڑا انکشاف ہوا ہے "امید” پورٹل پر اپ لوڈ کردہ تقریباً ایک لاکھ وقف جائیدادوں کے ریکارڈ کے آڈٹ کے بعد 12,000 سے زائد رجسٹریشنوں کو خارج کر دیا گیا ہے حکام کے مطابق یہ کارروائی بنیادی طور پر ڈاٹا انٹری میں نقص اور نامکمل دستاویزات کی وجہ سے کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق منسوخ شدہ رجسٹریشن کی فہرست میں سب سے زیادہ تعداد لکھنؤ (1,114) میں ہے، جس کے بعد بجنور (1,003) اور سہارنپور (990) کا نمبر آتا ہے۔ دیگر اضلاع میں بارہ بنکی (577) اور امروہہ (85) شامل ہیں، جب کہ باغپت (60) اور بریلی (17) میں نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ بورڈ کے ایک رکن نے بتایا کہ متاثرہ جائیدادوں میں چھوٹی مساجد کی زمین سے لے کر بعض اضلاع میں 300 ایکڑ سے زائد رقبے والے بڑے قبرستان بھی شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منسوخی قبرستانوں کے معاملات میں ہوئی ہے، جس کے بعد مساجد کا نمبر ہے۔ اس کے علاوہ مدارس، عیدگاہ، امام بارگاہ، درگاہ اور کچھ رہائشی و تجارتی جائیدادیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پورٹل پر رجسٹریشن کا کام ابھی جاری ہے اور اس کی آخری تاریخ 6 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ جن رجسٹریشنز کو خارج کیا گیا ہے، انہیں اب 5 جون تک درست معلومات اور مکمل دستاویزات کے ساتھ دوبارہ اپ لوڈ کرنا ہوگا۔
اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے ماتحت ریاست میں 1.26 لاکھ سے زائد وقف ادارے ہیں۔ یہ پورا عمل مرکزی حکومت کے ‘امید’ پورٹل کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز جون 2025 میں وقف جائیدادوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے اور انتظام میں شفافیت لانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت اس پورٹل پر رجسٹریشن لازمی کر دی گئی ہے، جو 5 اپریل سے نافذ العمل ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس کی آخری تاریخ 6 دسمبر 2025 تھی، جسے بعد میں وقف ٹریبونل کی ہدایت پر 10 دسمبر 2025 کو چھ ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔
یواین آئی





