منگل, ستمبر 1, 2026
24.5 C
Srinagar

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، اسرائیل-لبنان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز پر نئی پابندیاں

ایشین میل نیوزڈیسک

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے جہاں ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے سخت بحری ناکہ بندی اور معاہدے کی ڈیڈ لائن کی بات کی ہے، تو دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو عارضی طور پر مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے پر نئی پابندیاں اور محصولات عائد کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے عالمی توانائی منڈی اور علاقائی امن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ناکہ بندی مزید سخت ہوگی: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ

Trump tells PBS News that 'lots of bombs start going off' if Iran ceasefire expires | PBS News
واشنگٹن،:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک بار پھر ایران کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور یہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک مزید سخت اور بدتر ہوتی جائے گی جب تک کہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہو جاتا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفاد میں ہو۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا: "وقت ان کے حق میں نہیں ہے۔ یہ ناکہ بندی مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر اور مضبوط ہے اور اب یہاں سے حالات مزید خراب ہی ہوں گے۔ کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب وہ امریکہ، اس کے اتحادیوں اور باقی دنیا کے لیے منصفانہ اور فائدہ مند ہوگا۔”

امریکی میڈیا کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیویارک ٹائمز اور سی این این جیسے اداروں کو لگتا ہے کہ "میں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے بے چین ہوں۔” انہوں نے مزید کہا، "براہِ کرم یہ جان لیں کہ اس عہدے پر رہتے ہوئے شاید میں اب تک کا سب سے کم دباؤ محسوس کرنے والا شخص ہوں۔ میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے، لیکن ایران کے پاس نہیں۔ گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک کر رہی ہیں۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے، ان کی فضائیہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، ان کے طیارہ شکن اور ریڈار ہتھیار نیست و نابود ہو چکے ہیں اور ان کے لیڈر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع

Lebanon, Israel to hold second round of talks in Washington on Thursday

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی، لبنان کے لیے امریکی سفیر مشیل عیسیٰ اور اسرائیل و لبنان کے کئی اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس حوالے سے بتایا کہ "ملاقات بہت کامیاب رہی۔”انہوں نے کہا کہ امریکہ لبنان کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اسے حزب اللہ سے محفوظ رہنے میں مدد دی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کی میزبانی کے منتظر ہیں، تاہم انہوں نے اس ملاقات کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

ایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر اقتصادی دباؤ زیادہ | Dailyhunt

ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے اسپوتنک کو بتایا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عائد کردہ ٹرانزٹ فیس (گزرگاہ کے محصولات) کے حوالے سے روس سمیت متعدد ممالک کو استثنیٰ دے دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران نے پہلی بار آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے اور یہ رقم ملک کے مرکزی بینک میں منتقل کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے جب سفیر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: "ہم نے فی الوقت کچھ ممالک کو اس فیس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، تاہم مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ ہماری وزارتِ خارجہ اس وقت روس جیسے دوست ممالک کے لیے وضع کردہ استثنیٰ پر عمل درآمد کی کوشش کر رہی ہے۔”

ایران نے یہ محصولات امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا جواز آبنائے ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنانے پر آنے والے اخراجات کو بتایا گیا ہے۔ ایران نے اب آبنائے ہرمز کو اس وقت تک بند کر دیا ہے جب تک امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم نہیں کر دیتا۔ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا راستہ عملی طور پر بلاک ہو چکا ہے، جو کہ خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا کلیدی راستہ ہے، اور اس صورتحال نے خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

یو این آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img