رواں ماہ 60سے زائد منشیات فروش گرفتار، متعدد کی جائیدادیں قرق
شوکت ساحل
سرینگر:؍جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری 100 روزہ ’نشا مکت ابھیان‘ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سبھی20اضلاع میں منظم اور مربوط کارروائیوں کے ذریعے منشیات فروشوں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ اس مہم کو نہ صرف پولیس کارروائیوں بلکہ انتظامی اور سماجی سطح پر بھی بھرپور تقویت حاصل ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں منشیات کے خلاف سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

یہ مہم جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس اعلان کے بعد شروع کی گئی جس میں انہوں نے جموں سے100روزہ خصوصی ’نشا مکت ابھیان‘ کا آغاز کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ منشیات کا خاتمہ اب صرف پولیس کارروائی نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی و سماجی مشن ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد نہ صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری ہے بلکہ اس پورے نیٹ ورک، سپلائی چین اور مالی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مہم کے آغاز پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ منشیات کا مسئلہ اب ایک سماجی بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے جو نوجوان نسل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت، پولیس، تعلیمی اداروں، والدین اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آنا ہوگا تاکہ اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
پولیس کارروائیاں اور گرفتاریوں میں اضافہ:

رواں ماہ کے دوران جموں و کشمیر پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے مختلف اضلاع میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔روزانہ جاری ہونے والی پولیس اپڈیٹس کے مطابق رواں ماہ کے پہلے پندرہ سے بیس دنوں کے دوران کم از کم 50 سے 60 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاریاں مختلف اضلاع بشمول سری نگر، اننت ناگ، بارہمولہ، کپواڑہ، پلوامہ اور جموں ریجن کے متعدد علاقوں میں عمل میں آئیں۔ بعض مقامات پر ایک ہی دن میں متعدد گرفتاریاں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پولیس نے اپنی کارروائیوں کو زیادہ مربوط اور انٹیلی جنس بیسڈ بنا دیا ہے۔ 15 اپریل کے قریب ہونے والی ایک بڑی کارروائی میں مختلف اضلاع سے 17 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اس سے قبل12 اپریل کو 8اور 14 اپریل کو 7 افراد کو منشیات رکھنے یا فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد چھوٹی کارروائیوں میں 1 سے 5 افراد تک کی گرفتاریاں مسلسل رپورٹ ہو رہی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد صرف چھوٹے سطح کے ڈیلرز کو پکڑنا نہیں بلکہ ان بڑے نیٹ ورکس تک پہنچنا ہے جو منشیات کی سپلائی چین کو کنٹرول کرتے ہیں۔تقریباً تمام گرفتاریاں نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹرپک سبسٹینسز ایکٹ ( این ڈی پی ایس ایکٹ) کے تحت درج کی گئی ہیں، جس کے تحت منشیات کی خرید و فروخت، ترسیل اور ذخیرہ کاری کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ہر کیس میں ایف آئی آر درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

جائیدادوں کی قرقی اور مالی نیٹ ورک پر ضرب:

نشا مکت ابھیان کا ایک اہم پہلو منشیات فروشوں کے مالی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہے۔ رواں ماہ کے دوران پولیس نے متعدد کیسز میں منشیات فروشوں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط یا قرق کیں۔ان کارروائیوں میں رہائشی املاک، زمینیں، گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ان جائیدادوں کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی کیسز میں بینک اکاؤنٹس فریز کیے گئے اور بعض افراد کے سفری دستاویزات اور پاسپورٹس کی منسوخی کی کارروائیاں بھی شروع کی گئیں۔ان اقدامات کا بنیادی مقصد منشیات کے کاروبار کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنا اور اس کے مالی منافع کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
سرحدی نیٹ ورکس اور منظم اسمگلنگ پر نظر:حالیہ کارروائیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کا نیٹ ورک صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے بین الاقوامی اور سرحدی روابط بھی موجود ہیں۔ پولیس نے متعدد کیسز میں ایسے نیٹ ورکس کا سراغ لگایا ہے جو بیرونی ذرائع سے منشیات کی ترسیل میں ملوث ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی اداروں نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ سپلائی چین کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
سماجی بیداری مہمات اور عوامی شمولیت:

100 روزہ نشا مکت ابھیان کا ایک اہم اور منفرد پہلو اس کی سماجی بیداری مہمات ہیں، جن کا مقصد عوام خصوصاً نوجوانوں میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنا ہے۔اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں پد یاتراؤں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان اور عام شہری بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان ریلیوں کے ذریعے منشیات کے خلاف اجتماعی پیغام دیا جا رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں سمینار، ورکشاپس اور سمپوزیم کا اہتمام کیا جا رہا ہے جہاں ماہرین صحت، پولیس افسران اور سماجی رہنما طلبہ کو منشیات کے نقصانات اور قانونی نتائج سے آگاہ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ تھیٹر پلے اور نکڑ ناٹک جیسے تخلیقی ذرائع کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پیغام عام لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچے۔ یہ پروگرام خاص طور پر قصبوں اور دیہی علاقوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں جہاں براہ راست رابطہ عوامی شعور میں اضافہ کر رہا ہے۔موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف مہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں صرف گرفتاریوں پر نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک، مالی ڈھانچے اور سماجی اثرات پر یکساں توجہ دی جا رہی ہے۔





