جمعہ, مارچ ۶, ۲۰۲۶
17.6 C
Srinagar

ایران جنگ کے باعث سعودی عرب، یو اے ای، کویت اور قطر کا امریکا کے ساتھ معاہدوں سے دستبرداری پر غور: رپورٹ

مشرقِ وسطیٰ کی تین بڑی معیشتیں تہران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی مہم کے دوران اپنے مالی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کا جائزہ لے رہی ہیں


رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکا کے ساتھ بعض معاہدوں اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں کو کم کرنے یا ان سے دستبردار ہونے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار ( Financial Times )کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا انہیں امریکا کے ساتھ موجودہ معاہدوں اور آئندہ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کمی کرنی چاہیے یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ ممکنہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب ایران جنگ اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث علاقائی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خلیجی قیادت بیرونِ ملک بڑے سرمایہ کاری فیصلوں سے قبل اپنے مالی خدشات اور طویل مدتی خطرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

خلیجی ممالک کے بجٹ پر بڑھتا ہوا دباؤ انہیں اپنی بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور آئندہ مالی وعدوں پر نظرثانی پر مجبور کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

ایک خلیجی عہدیدار کے مطابق اس فیصلے کے اثرات مختلف شعبوں پر پڑ سکتے ہیں، جن میں غیر ملکی ریاستوں یا کمپنیوں کو دی جانے والی سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں، اسپورٹس اسپانسرشپ، کاروباری معاہدے، سرمایہ کاروں کے ساتھ ڈیلز یا اثاثوں کی فروخت شامل ہو سکتی ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ چار بڑی خلیجی معیشتوں — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر — میں سے تین نے مشترکہ طور پر اپنے بجٹ اور معیشت پر پڑنے والے دباؤ پر تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم انہوں نے متعلقہ ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ کئی خلیجی ممالک نے اندرونی سطح پر جائزہ شروع کر دیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ موجودہ معاہدوں میں ’فورس میجر‘ کی شق کو استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ جنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے، خاص طور پر اگر جنگ اسی رفتار سے جاری رہتی ہے۔

عہدیدار کے مطابق یہ اقدام دراصل ایک احتیاطی تدبیر ہے کیونکہ ان ممالک کو توانائی کی آمدنی میں کمی، پیداوار میں سست روی یا ترسیل میں مشکلات، سیاحت اور ہوا بازی کے شعبوں میں کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے معروف تاجر خلاف احمد ال حبطور(Khalaf Ahmad Al Habtoor)نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں خلیجی ممالک کی تشویش کا اظہار کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ انہیں خطے کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنے کا اختیار کس نے دیا۔

انہوں نے لکھا:’’ایک براہِ راست سوال: آپ کو ہمارے خطے کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کا اختیار کس نے دیا؟ اور آپ نے یہ خطرناک فیصلہ کس بنیاد پر کیا؟ کیا آپ نے ٹرگر دبانے سے پہلے اس کے ممکنہ نقصانات کا حساب لگایا تھا؟‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبوں اور امن کے وسیع منصوبوں کی مالی معاونت کریں گے۔

ان کے مطابق عرب خلیجی ممالک نے استحکام اور ترقی کی حمایت کے نام پر اربوں ڈالر فراہم کیے ہیں اور اب انہیں یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ یہ رقم کہاں گئی اور کیا یہ امن کے لیے خرچ ہو رہی ہے یا ایسی جنگ کے لیے جو انہیں خود خطرے میں ڈال رہی ہے۔

بشکریہ: Financial Times

Popular Categories

spot_imgspot_img