میرواعظِ کشمیرڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے بابرکت ماہِ رمضان المبارک کے عشرئہ رحمت کے سلسلے میں مسجد ابو بکرؓ، زونی مر میں خطاب کرتے ہوئے معاشرے میں سماجی رویّوں کی گراوٹ اور بڑھتی ہوئی ترش کلامی پر تشویش کا اظہار کیا۔
اخلاقِ حسنہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ رمضان صرف کھانے پینے سے اجتناب کا نام نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی روزہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان اپنی زبان کو پاک رکھے، اپنے خیالات میں نظم و ضبط لائے اور اپنے کردار کو سنوارے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری گفتگو تمسخر اور دل آزاری سے پُر ہو تو یہ ایک گہرے اخلاقی بحران کی عکاسی ہے جس کی اصلاح کے لیے رمضان ہمیں توجہ دلاتا ہے۔
عوامی مکالمے کی موجودہ صورتحال، بالخصوص سوشل میڈیا پر اظہار تکلم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اظہارِ خیال اور تعمیری گفتگو کے لیے قائم کیے گئے پلیٹ فارمز تیزی سے گالی گلوچ اور ذاتی حملوں کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافِ رائے ہرگز بے ادبی، تذلیل یا انسانی اقدارکی بے حرمتی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہ’’ مومن یا تو خیر کی بات کرے یا خاموش رہے‘‘، میرواعظ نے کہا کہ ناشائستہ اور توہین آمیز زبان اسلامی تعلیمات اور روحِ رمضان کے منافی ہے۔ انہوں نے بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ باوقار طرزِ گفتگو، ضبط اور ہمدردی کو اپنائیں تاکہ رمضان حقیقی معنوں میں اخلاقی اصلاح اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بن سکے۔




