بدھ, فروری ۲۵, ۲۰۲۶
16.5 C
Srinagar

اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، مشترکہ وژن سے مستقبل تابناک ہوگا: مودی

نئی دہلی،: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کے اسرائیل کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور مشترکہ وژن سے دونوں ممالک کا مستقبل تابناک ہوگا بدھ کو اسرائیل کے دوروزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ایک بیان میں مسٹر مودی نے کہا کہ وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کی دعوت پر وہاں جارہے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے منتظر ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسرائیلی صدر سے بھی ملاقات کریں گے، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور وہاں مقیم ہندوستانی برادری سے بات چیت کریں گے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری ہے جس میں حالیہ برسوں میں زبردست ترقی اور تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا، "میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنی بات چیت کا منتظر ہوں، جس کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی، اختراع، زراعت، پانی کے انتظام، ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ہی عوام کے درمیان تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ہم باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اشتراک کریں گے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس دورے کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا، "مجھے اسرائیلی پارلیمنٹ، نیسٹ سے خطاب کرنے والا پہلا وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہو گا، یہ ایک ایسا موقع ہوگا جو ہمارے دونوں ممالک کو جوڑنے والے مضبوط پارلیمانی اور جمہوری تعلقات کو خراج تحسین ہوگا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ہندوستانی کمیونٹی کے لوگوں سے بات چیت کرنے کا بھی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں جو طویل عرصے سے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی دوستی کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا، اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے نئے اہداف کا تعین کرے گا نیز مضبوط اور جدت پر مبنی خوشحال مستقبل کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

کانگریس نے مودی کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھایا

کانگریس نے مودی کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھایا

 کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی کے لیے پوری دنیا اسرائیل کی تنقید کر رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جا سکتا کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کو مسٹر مودی کے دورہ اسرائیل پر سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ہندوستان کا نظریہ ہمیشہ متاثرین اور بے گناہوں کے دکھوں کے تئیں حساس رہا ہے، اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ مسٹر مودی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سامنے بھی اپنے روایتی ہندوستانی نقطہ نظر کو رکھیں گے۔
محترمہ واڈرا نے کہا، "مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم اسرائیل کے اپنے دورہ کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں ہزاروں بے گناہ مرد و خواتین اوربچوں کے قتل عام کا ذکر کریں گے اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ ہندوستان ایک آزاد قوم کے طور پر اپنی پوری تاریخ میں سچائی کے لیے کھڑا رہا ہے، ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے۔”
وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے لکھا، "فلسطین کے تئیں ہندوستان کا ایک تاریخی اور اخلاقی نظریہ رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”
فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 20 مئی 1960 کو غزہ کا دورہ کیا اور وہاں اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس میں تعینات ہندوستانی دستے سے ملاقات کی۔ پھر 29 نومبر 1981 کو ہندوستان نے فلسطین کی حمایت میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جب کہ 18 نومبر 1988 کو ہندوستان نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔
مسٹر رمیش نے کہا، ’’وہ ایک مختلف دور تھا۔ اب ایسے وقت میں جب غزہ کی صورت حال پر بین الاقوامی تشویش پائی جارہی ہے، مسٹر مودی کا اپنے ‘عزیز دوست’ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ قربت کا مظاہرہ، اخلاقی نقطہ نظر سے سوالات اٹھاتا ہے۔”مسٹر مودی آج اسرائیل کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوئے۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img