رانچی، : جھارکھنڈ کے چترا ضلع میں پیر کی شام ایک ایئر ایمبولینس حادثے میں اس میں سوار تمام سات افراد کی موت ہو گئی، ان کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں مرنے والوں میں پائلٹ کیپٹن وویک اور کیپٹن سبراجدیپ، مریض سنجے کمار، ان کی اہلیہ ارچنا دیوی، دھرو کمار، ڈاکٹر وکاس کمار گپتا اور ایک پیرامیڈیک سچن کمار مشرا شامل ہیں۔ چترا کے ایس پی سمت اگروال نے آج بتایا کہ تمام لاشیں دیر رات تک برآمد کر لی گئیں۔
رانچی سے دہلی جا رہی ریڈبرڈ ایئرویز پرائیویٹ لیمیٹڈ کی ایئر ایمبولینس نے کل شام 7:11 بجے رانچی کے برسا منڈا ہوائی اڈے سے اڑان بھری۔ کولکاتہ اے ٹی سی سے رابطہ شام 7:34 بجے منقطع ہوگیا۔ ریسکیو کوآرڈینیشن سنٹر کو رات 8:05 پر فعال کیا گیا۔
ابتدائی رپورٹوں میں خراب موسم کی ممکنہ وجہ بتائی گئی ہے۔ پیر کی دیر رات، موسم اچانک بدل گیا، تیز ہوائیں اور بارش ہونے لگی۔ طیارہ اپنے مقررہ روٹ سے دائیں جانب ڈائورٹ ہوگیا تھا اور راستہ بھٹک گیا۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ شام 7:45 کے قریب جنگل سے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی جس سے گاؤں والے سہم گئے۔
رانچی کے دیوکمل اسپتال سے موصولہ اطلاع کے مطابق ایئر ایمبولینس کا انتظام ان کے ایک مریض نے کیا تھا۔ چندوا کے ایک تاجر سنجے کمار چھ دن پہلے 65 فیصد جھلس گئے تھے۔ پانچ روز قبل پلامو میں ان کے لائن ہوٹل میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی تھی اور وہ پھسل کر آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ انہیں رانچی کے دیوکمل اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ حالت بگڑنے پر انہیں دہلی لے جایا جا رہا تھا۔ متوفی سنجے کے دو بیٹے 17 سالہ شبھم اور 13 سالہ شیوم ہیں۔
ڈی جی سی اے اور مقامی انتظامیہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں خراب موسم کی ممکنہ وجہ بتائی گئی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ رگھوور داس چمپائی سورین نے حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "رانچی سے دہلی جانے والی ایئر ایمبولینس کے سماریا، چترا ضلع میں گر کر تباہ ہونے کی خبر سے مجھے دکھ ہوا ہے۔ اس میں عملے کے ارکان سمیت سات افراد سوار تھے۔”





