جمعرات, فروری ۱۲, ۲۰۲۶
8.2 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں من گھڑت خبروں کی روکتھام کی خاطر نئی میڈیا پالیسی زیر غور:حکومت

جموں،: جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں بتایا ہے کہ فیک نیوز اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محکمہ اطلاعات کے سوشل میڈیا سیل کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور آن لائن نیوز پورٹلز پر نشر ہونے والے ہر مشتبہ مواد کی نگرانی کر رہا ہے۔
حکومت کے مطابق جیسے ہی کوئی خبر فیک یا گمراہ کن ثابت ہوتی ہے، محکمہ فوری طور پر اس کا ریبٹل جاری کرتا ہے اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اگلے دن کے اخبارات اور ڈی آئی پی آر کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی شائع کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو درست معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران مجموعی طور پر 28 سرکاری ریبٹل جاری کیے گئے ہیں۔
ایوان کو مزید آگاہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر میڈیا پالیسی 2020 کے تحت ڈی آئی پی آر کو اختیار ہے کہ وہ میڈیا اداروں کی جانب سے جھوٹی، چوری شدہ یا غیر اخلاقی/غیر ملکی مخالف سرگرمیوں کی نگرانی کرے، اور ضرورت پڑنے پر ایسے میڈیا اداروں کو ڈی امپینل کرنے یا انہیں سرکاری اشتہارات روکنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اگر کوئی میڈیا ادارہ پریس اینڈ رجسٹریشن آف پیریاوڈیکلز ایکٹ 2023 کے تحت رجسٹر ہو، تو خلاف ورزی کی صورت میں اُس کی ڈی رجسٹریشن کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈی آئی پی آر کسی نجی فیکٹ چیک یونٹ کو رجسٹر یا تسلیم نہیں کرتا، اور نہ ہی محکمے کے دائرہ اختیار میں فیک نیوز پھیلانے والے اداروں یا افراد پر جرمانے عائد کرنا شامل ہے۔ تاہم، تمام سرکاری محکموں میں فیک نیوز کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سیلز قائم ہیں، اور نامزد نوڈل افسران روزانہ کی بنیاد پر مشتبہ مواد کی نشاندہی کرکے محکمہ اطلاعات کو آگاہ کرتے ہیں۔
سرکار نے فیک نیوز سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور آئی ٹی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس کے لیے بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔
آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات جیسے سیکشن 69A ریاست کو عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کے مفاد میں آن لائن مواد بلاک کرنے کا اختیار دیتی ہیں، جبکہ سیکشن 66C، 66D، اور 67 چوریِ شناخت، جعلسازی اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو قابل سزا جرم قرار دیتی ہیں۔
حکومت نے مزید کہا کہ بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023 نے آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون کو جدید بنایا ہے، جس میں نفرت انگیزی، مذہبی دل آزاری، بہتان تراشی اور افواہیں پھیلانے جیسے جرائم کو سخت سزاؤں کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کے ڈیٹا کے استعمال، اُن کی رضامندی، ڈیٹا بریک کی اطلاع اور ڈیٹا ڈیلیشن جیسے معاملات کا پابند بنایا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے محاذ پر محکمہ آئی ٹی نے ایوان کو بتایا کہ سرکاری ویب سائٹس کا باقاعدہ سیکورٹی آڈٹ کیا جارہا ہے، غیر فعال ویب سائٹس کو ہٹایا گیا ہے، اور ریاستی سطح پر سائبر سیکیورٹی گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تمام محکموں نے سائبر کرائسس منیجمنٹ پلان تیار کیا ہے، جبکہ ملازمین کی تربیت کے لیے سائبر ڈرلز، آگاہی پروگرام، اور iGOT پلیٹ فارم کے ذریعے لازمی کورسز بھی جاری ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ فیک نیوز کی روک تھام، ڈیجیٹل سیکیورٹی میں بہتری اور میڈیا کے مؤثر نظم و نسق کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو درست، مستند اور ذمہ دارانہ معلومات بروقت فراہم کی جا سکیں۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img