پیر, فروری ۹, ۲۰۲۶
8.5 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ گئی:حکومت

جموں،: جموں و کشمیر اسمبلی میں بے روزگاری سے متعلق ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں موجودہ بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہے، جو قومی اوسط 3.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
حکومت نے گزشتہ چار برسوں کے اعداد و شمار بھی ایوان کے سامنے پیش کیے، جن کے مطابق بے روزگاری میں وقتاً فوقتاً واضح اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
مرکزی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2023–24 میں جموں و کشمیر کی بے روزگاری شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2022–23 میں یہ 4.4 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ حکومت نے بتایا کہ مشن یوا کے تحت جنوری 2025 میں ہونے والے ایک بڑے سروے میں 4.73 لاکھ افراد نے خود کو "کام نہ کرنے مگر کام کرنے کے خواہش مند کے طور پر درج کروایا”، جس سے خطے میں روزگار کی طلب کا وسیع حجم سامنے آتا ہے۔
حکومت نے ایوان میں بتایا کہ بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنا ان کی اولین ترجیح ہے، اور پالیسی محض سرکاری نوکریاں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ پائیدار معاشی مواقع، اسکلنگ، کاروباری ماحول اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی ہے۔
اس سلسلے میں مشن یوا کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا ہے جس میں اب تک 1.71 لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ 70 ہزار کے قریب کاروباری درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ان میں سے 52,875 امیدواروں کے ڈی پی آرز باقاعدہ تیار کیے گئے، اور 47,816 کیسز ڈپٹی کمشنرز نے منظوری کے لیے بینکوں کو بھیجے۔
حکومت کے مطابق 16,141 درخواستیں بینکوں نے منظور کر کے تقریباً 1000 کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے ہیں، جن میں سے 700 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری بھی ہو چکی ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ بینکوں کی جانب سے 9,500 درخواستیں مختلف مالیاتی مسائل کی بنیاد پر واپس کی گئی ہیں، جن میں کمزور کریڈٹ اسکور، گھر کے دیگر افراد پر بقایاجات یا دستاویزاتی خامیاں شامل ہیں۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام کیسز ازسرِ نو مرتب ہو کر دوبارہ بینکوں کو بھیجے جا رہے ہیں۔
سال 2023–24 اور 2024–25 کے دوران مختلف اسکیموں کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو تربیت اور مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق جموں و کشمیر کے 95 فیصد پنچایتوں سے درخواستیں موصول ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کاروبار اب نوجوانوں کے لیے ایک قابلِ قبول اور معتبر ذریعہ معاش بن چکا ہے۔
اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت نے بے روزگاری میں کمی لانے کے لیے ایک مفصل روڈ میپ تیار کر لیا ہے جس میں 2026–31 کے دوران وسیع پیمانے پر روزگار، ہنرمندی اور کاروباری مواقع کے ہدف شامل ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img